BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 16 August, 2004, 13:03 GMT 18:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراق میں ’عوامی تحریک‘

’عوامی تحریک‘
اتوار کو عراقی شہر نجف میں امریکی افواج اور مزاحمت کاروں کے درمیان جنگ بندی ختم ہوگئی اور تصادم ایک بار پھر شروع ہوگیا۔ بی بی سی کے نامہ نگار میتھیو پرائس وہاں موجود بہت کم مغربی صحافیوں میں شامل ہیں۔ عراقی پولیس نے اب صحافیوں کے نجف جانے پر پابندی لگا دی ہے۔

جب ہم نجف پہنچے وہاں سب خاموش تھا۔ ہم بغداد سے صبح ساڑھے چھ بجے نکلے تھے اور کفا سے ہوتے ہوئے نجف کی طرف جا رہے تھے۔

وہاں ہمارا سامنا پہلی بار شیعہ رہنما مقتدی الصدر کی حامی ملیشیا کے ارکان سے ہوا۔ ان میں سے زیادہ تر کمسن، نوجوان لڑکے تھے۔ ان کے چہروں پر نقاب اور ہاتھوں میں اے کے 47 رائفلیں اور گرینیڈ لانچرز تھے۔

ان میں سے کچھ ہمارے نزدیک ایک عمارت پر کھڑے تھے اور ان کے ہتھیاروں کا رخ ہماری طرف تھا۔ ہم نے انہیں شہر کے ایک مذہبی رہنما کا خط دکھایا، جسے دیکھ کر انہوں نے ہمیں آگے جانے کی اجازت دے دی۔

شہر کی سڑکیں سنسان تھیں۔ زیادہ تر شہری سارا دن اپنے گھروں کے اندر ہی رہتے ہیں۔ ہم ایک مقامی ہوٹل پہنچے جہاں دیگر صحافی ٹھہرے ہوئے تھے۔ اس سے آگے ہم نہیں جا سکتے تھے۔

ہم امام علی کے مزار تک نہیں جا سکے کیونکہ وہاں شدید لڑائی چل رہی تھی۔

ایرئیل پر سفید کپڑا باندھے ہوئے ایک گاڑی ہماری طرف آئی۔ اس میں مقتدی الصدر کا ایک نائب سوار تھا۔ اس نے ہمیں بتایا کہ الصدر زخمی ہو گئے تھے مگر ان کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ اس نے یہ بھی کہا کہ وہ آخری دم تک لڑیں گے۔

کچھ ایمبیولینس گاڑیاں اس کے ساتھ وہاں سے چلیں۔ ہم ان کے ساتھ شہر کے ہسپتال تک گئے جہاں زخمی مزاحمت کاروں کو علاج کے لیے لایا جارہا تھا۔ ان میں سے ایک دراز قد لمبی داڈی والا شخص تھا۔ وہ بری طرح سے زخمی تھا۔ ایک ڈاکٹر نے ہمیں بتایا کہ ہم اندر نہیں جا سکتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہ شہریوں اور مزاحمت کاروں کے ساتھ ایک سا سلوک کر رہے ہیں۔

ہم نجف کے باہر کفا کی مسجد گئے۔ وہاں سڑک پر بنے ایک ناکے پر موجود مسلح افراد نے ہمیں ان کی فلم بنانے کی اجازت دی۔ وہ ہم سے باتیں کرتے رہے۔ ہم سے بات چیت کرنے کے کچھ عرصے بعد وہ مسکرانے لگے اور بے فکر سے ہو گئے۔

رائفلیں اور گرنیڈ لیے ہوئے مسکراتے کمسن چہرے۔ ان میں سے ایک نے مسکراتے ہوئے اپنی جیب میں سے ایک گرنیڈ نکالا۔ بہت جلد ہمارے گرد ایک بھیڑ جمع ہو گئی۔

دو تابوت اٹھائے لوگ ایک جلوس کی شکل میں مقتدی الصدر کے حق میں اور امریکہ کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ ہمیں دیکھ کر ایک مذہبی رہنما ہمارے پاس آئے۔ پوچھے جانے پر ہمارے ترجمہ کار نے بتایا کہ ہم صحافی ہیں۔ پہلے تو وہ ہم سے بات کرنے میں ہچکچا رہے تھے مگر کچھ دیر بعد کھل کر بات کرنے لگے اور ہم سے کئی سوالات پوچھنے لگے۔

انہوں نے کہا کہ وہاں لوگ غصے میں ہیں۔ یہ دو تابوت ان افراد کے تھے جو کل رات امریکی حملے میں مارے گئے تھے۔ ہمارے پاس اس بات کی تصدیق کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ وہ ہمیں اس جگہ لے جا سکتے ہیں جہاں تابوتوں کو لے جایا جا رہا تھا۔ جب ہم وہاں پہنچے تو لوگوں نے نعرے بلند کرنا شروع کر دیا۔

کالا لباس پہنے ہوئے اور سر پر ہری پٹی باندھے ہوئے ایک شخص سامنے آیا اور قران میں سے کچھ آیتیں پڑھنے لگا۔ پھر اس نے کہا کہ ملیشیا میں لڑنے والے طاقت ور ہیں اور اللہ نے چاہا تو فتح انہی کی ہوگی۔

جاتے وقت میں نے عالم کے ساتھ ہاتھ ملایا اور انہوں نے کہا کہ ’ ہم میں اور آپ میں کوئی فرق نہیں ہے۔ ہم دونوں انسان ہیں۔ صدام کے دور میں کبھی ایسا کچھ نہیں ہوا تھا۔ ہمارے لوگ کبھی اس طرح نہیں مارے گئے۔‘

وہ عالم ایک شعیہ مسلمان تھا اور شعیہ برادری صدام کے زور و جبر کا شکار بنی تھی۔

بغداد واپسی پر ہم نے ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کو جنوب کی طرف جاتے ہوئے دیکھا، کچھ پیدل، کچھ گاڑیوں میں اور کچھ ٹرکوں میں۔

کچھ کے ہاتھوں میں مقتدیٰ الصدر کی تصویریں تھیں اور کچھ کے چہروں پر نقاب تھا۔ ایسا لگتا تھا کہ الصدر کی حمایت کے لیے ایک عوامی تحریک نجف کی طرف جا رہے تھی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد