عراق میں ایک ہفتہ سے جاری خوں ریزی پر مشرق وسطیٰ کے اخبارات کی اکثریت نے امریکہ کو صورتحال کا ذمہ دار قرار دیا ہے، لیکن کچھ اخبارات نے شیعہ رہنما مقتدیٰ الصدر پر بھی ذمہ داری عائد کی ہے۔ سنیچر کو شائع ہونیوالے اخباروں کا تجزیہ: الوطن سعودی عرب سے شائع ہونے والے الوطن نے اپنے اداریے میں لکھا ہے کہ اِس وقت جب امریکی افواج نجف میں گھس چکی ہیں عراق کی عبوری حکومت کی مثال کسی لانچر کے دہانے پر رکھے ہوئے گرنیڈ کی سی ہے۔ الاحرام مِصر سے شائع ہونے والے الحرام نے لکھا ہے کہ مقتدیٰ الصدر کی گرفتاری کے لیے نجف میں امریکی فوجیوں کی کارروائی سے حالات مزید خراب ہو گے اور اس سے قبضے کے خلاف مزاحمت بھی کم نہیں ہو گی۔ اخبار نے لکھا ہے کہ عبوری حکومت نے نجف میں کارروائی سے قبل ممکنہ رد عمل کا تجزیہ نہیں کیا تھا۔ اس فیصلے سے آگ نجف سے باہر بغداد ، امارہ اور دیگر علاقوں میں بھی پھیل گئی ہے۔ الحیات لندن سے شائع ہونے والے الحیات میں عبدالوحاب بدرخان نے تبصرہ کیا ہے کہ عراق میں حالات کو قابو کرنے کا واحد ذریعہ قتل وغارت ہے۔۔۔۔ وہ عراقی یا غیر عراقی جنہوں نے صدام حسین کا تختہ الٹ کر تاریخ بنائی اب صدام کی عدم موجودگی میں صدامیت کو فروغ دے رہے ہیں۔ الشرق الوسط لندن سے شائع ہونے والے اِس اخبار میں زین العابدین لکھتے ہیں کہ وہ عراقیوں کو خوشیاں دینے آئے تھے لیکن انہوں نے ان کی پریشانیوں میں اضافہ کیا ہے۔ اگر امریکی خارجہ پالیسی اسی سمت میں چلتی رہی تو اس سے دنیا بھر میں سیاسی، سماجی اور سلامتی کی صوتحال میں ایسی آگ لگے گی جس کی تپش سے ہر کوئی کسی نہ کسی حد تک متاثر ہوگا۔ القدس العربی یوم اوّل سے ہی وزیراعظم علاوی کی حکومت نے اتفاق رائے اور اتحاد کا طریقہ کار نہیں اپنایا۔ انہوں نے مقتدیٰ الصدر کے خلاف فرقہ واریت کا کارڈ کھیلنے کو ترجیح دی اور اس کے ساتھ ہی دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر فلوجہ میں اسرائیلی وزیر اعظم ایرئیل شیرون طرز کی کارروائی میں گھروں کو گرایا۔ المنار الیوم عراق کی گرین پارٹی کے سیکرٹری جنرل عراق کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ امریکی فوج نے فلوجہ میں جو مظالم ڈھائےاور امریکی اور برطانوی افواج جو نجف اور دوسرے شہروں میں اب کر رہی ہیں منظم نسل کشی ہے، جسے ہمسایہ ممالک سے ”آنے والوں” کے خلاف انسدادِ دہشت گردی کی کارروائی کا نام دیا جا رہا ہے۔ |