نجف کا بحران | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حضرت علی کے روضے کے قریب گولہ گرنے سے ایک دھماکہ ہوتا ہے اور اس کی آواز روضے کے اندر سنہری گنبد کے گرد گونجتی ہے۔ لیکن سینکڑوں لوگ جو ٹولیوں کی شکل میں وہاں موجود ہیں اس دھماکے سے بے نیاز ہوکر نعرے لگا رہے ہیں یا گا رہے ہیں۔ جنگ کی وجہ سے یہ لوگ ایسی آوازوں کے عادی ہو چکے ہیں۔ نجف کی لڑائی اب کئی دنوں سے جاری ہے اور جنگ کے خاتمے کے بعد نجف میں ہونے والی امریکی ہوائی بمباری میں یہ انتہائی شدید ہے۔ مگر بظاہر روضے کے احاطے میں کوئی اسلحہ نہیں ہے گو کہ اس کے ارد گرد کے تنگ گلی کوچوں میں مقتدیٰ الصدر کی ملیشیا بھاری اسلحے سے لیس پوزیشنیں سنبھالے بیٹھے ہیں۔ ایک بڑی شاہراہ تک پہنچنے پر امریکی فوج کا قبضہ ختم ہو جاتا ہے اور مہدی آرمی کے جنگجوؤں اور نشانہ بازوں کا اثر و رسوخ شروع ہو جاتا ہے۔ ہم لوگ بہت احتیاط سے ہاتھ اٹھائے اور ایک سفید قمیض لہراتے ہوئے ان کے درمیا ن سے گزرتے ہیں۔ ایک امریکی ٹینک بظاہر ہماری پرواہ نہیں کرتا اور جیسے ہی ہم گلی میں ٹوٹے شیشوں، ملبے اور دیواروں پر گولیوں کے نشان دیکھتے گزرتے ہیں الصدر کے مسلح حامی ہمیں خوش آمدید کہتے ہیں۔ جنگجوؤں کے حوصلے بلند تھے۔ جیسے ہی ہمارے کیمرے کو دیکھا ایک نے اپنی بندوق اور ہاتھ اوپر اٹھا کر فتح کا نشان بنایا۔ وہ ہمارے ساتھ مذاق کر رہے تھے۔ ایک نے کہا: ’کیا تم لوگوں کے پاس پریس کارڈ ہیں؟ کیونکہ روضے کے اندر عراقی پولیس یہ دیکھے گی اور اگر جس کے پاس نہیں ہوا تو اسے گرفتار کر لے گی‘۔ یہ کہہ کر وہ زور سے ہنس دیا۔ چند دن پہلے حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ عراقی پولیسں احاطے میں داخل ہوگئی ہے اور اس نے چار سو جنگجوؤں کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ صاف واضح تھا کہ نجف شہر کی گلیوں پر جن لوگوں کا قبضہ ہے وہ بھاری اسلحے سے لیس الصدر کے حامی ہیں۔ عراق میں عبوری حکومت کے بننے کے کچھ ہی عرصہ بعد مقتدیٰ الصدر نے اسے ایک شدید بحران میں الجھا دیا ہے۔ نجف میں یہ مقدس مقام اب میدان جنگ بن چکا ہے اور یہ سکوت گولیوں کی آواز سے ٹوٹ گیا مگر یہ تعطل ختم ہوتا نظر نہیں آتا۔ عراقی حکومت کے انتباہ کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ اس بحران میں جھوٹے وعدے اور کھوکھلے دعوے ہی سامنے آئے ہیں۔ احاطے میں موجود الصدر کے ایک ترجمان نے کہا کہ روضے کا قبضہ اہم شیعہ رہنماؤں کے حوالے کر دیا جائے گا اور یہ مسئلے کا ایک حل ہے۔ مگر انہوں نے یہ بھی کہا کہ مہدی آرمی احاطے کے باہر روضے کی حفاظت کے لیے گلیوں میں موجود رہے گی۔ یہ تو حکومت کا مطالبہ نہیں۔ اس طرح عبوری حکومت اپنی ساکھ کو خراب کر رہی ہے اس لیے کہ وہ کارروائی بھی کرنا چاہتی ہے اور روضے کو نقصان بھی نہیں پہنچانا چاہتی۔وزارت داخلہ نے روضے کے اندر پولیس کے داخلے کا جھوٹا دعویٰ کیا تھا۔ موجودہ حالات میں اس بحران کا حل ایک مشکل کام ہوگا۔ آئیندہ کیا ہوگا اس کا جواب ان لوگوں کے پاس نہیں جو روضے کے احاطے میں اکٹھے ہیں اور اپنے آپ کو ’انسانی ڈھالیں‘ کہتے ہیں۔ ان کے ارد گرد لڑائی جاری ہے اور یہ لوگ امن کے لیے دعائیں مانگ رہے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||