نجف: رات بھر بمباری کے بعد سکوت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نجف میں رات بھر امریکی فوج کی زبردست بمباری کے بعد جمعہ کی صبح خاموشی چھائی ہوئی ہے۔ اس سے قبل امریکی طیاروں اور ٹینکوں نے عراق کےشہر نجف میں حضرت علی کے روضے کے ارد گرد شیعہ رہنما مقتدیٰ الصدر کے حامیوں کے ٹھکانوں پر بمباری کی تھی۔ عراق کے مقامی وقت کے مطابق بمباری صبح ہونے سے چند گھنٹے پہلے بند ہوئی۔ دھماکے اتنے شدید تھے کہ ان سے اٹھنے والے شعلوں سے شہر کی عمارات کے گنبد روشن ہو گئے۔ ان حملوں سے پہلے عراق کی عبوری حکومت کے وزیر اعظم ایاد علاوی نے جنگجوؤں کو ہتھیار ڈالنے اور حضرت علی کے روضے سے چلے جانے کی ”آخری وارننگ” دی تھی۔ دریں اثناء مقتدیٰ الصدر سے منسوب ایک خط میں کہا گیا ہے کہ وہ روضے کا کنٹرول اعلیٰ علماء کے حوالے کرنے کو تیار ہیں جو ان کے حامیوں کے مستقبل کے بارے میں بھی فیصلہ کریں گے۔ تاہم نجف میں بی بی سی کے ایک نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ابھی مذکورہ خط کی تصدیق کرنا مشکل ہے۔
بغداد میں صدر کے علاقے میں امریکی فوج مزاحمت کاروں سے ہتھیار ڈلوانے کے لیے صدرکے علاقے میں داخل ہو ئی۔ حلہ کے علاقے میں ایک حملے میں پولینڈ کے دو فوجی ہلاک ہو گئے۔ ادھر بصرہ میں مزاحمت کاروں نے ساؤتھ عراق آئل کمپنی کے دفاتر پر حملہ کر کے آگ لگا دی تھی۔ بصرہ میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ آگ بہت شدید تھی اور یہ کہ حملہ آوروں کو پولیس کی طرف سے مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ اس حملے سے قبل مقتدیٰ الصدر نے کہا تھا کہ نجف میں امریکی کارروائی کے جواب میں ان کے حامی عراق میں تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||