BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 19 August, 2004, 07:05 GMT 12:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراق: صدر سٹی میں لڑائی، ہلاکتیں
ایک امریکی ٹینک بھی تباہ ہو گیا ہے
ایک امریکی ٹینک بھی تباہ ہو گیا ہے
امریکی فوج نے بغداد کے علاقے صدر سٹی میں ایک بڑا حملہ کیا ہے اور درجنوں مزاحمت کاروں کو ہلاک کرنے کا دعوی کیا ہے۔

ایک امریکی کرنل نے کہا ہے کہ امریکی فوج نے صدر سٹی کے اندر دو کلو میٹر تک پیش قدمی کی ہے اور پہلی دفعہ مقتدی الصدر کے جنگجؤں کو شہر میں مختلف مقامات پر لڑنے پر مجبور کیا ہے۔ صدر سٹی بغداد شیعہ اکثریتی علاقہ ہے اور ریڈیکل شیعہ رہنما مقتدی الصدر کہ حامیوں کا گڑھ ہے۔

انہوں نے پچاس کے قریب مزاحمت کاروں کو ہلاک کرنے کا دعوی بھی کیا ہے۔

اس سے پہلے مقتدی الصدر نے اپنے مسلح گروہ مہدی ملیشیا کے نجف سے انخلاء پر رضامندی ظاہر کر دی تھی۔

تاہم بغداد میں ایک امریکی ترجمان نے صدر شہر میں جاری کارروائی کی تفصیلات دینے سے انکار کر دیا ہے۔

تاہم مقتدی الصدر نے کہا ہے کہ مہدی ملیشیا کا شہر سے انخلاء ایک معاہدے کے تحت ہونا چاہیے۔

مقتدی الصدر اپنے ملیشیا کے سینکڑوں مسلح ارکان کے ساتھ نجف میں گزشتہ دو ہفتے سے محصور ہیں اور امریکی فوج کے خلاف زبردست مزاحمت کر رہے ہیں۔

صدر شہر میں کارروائی کے دوران ایک امریکی ٹینک تباہ اور ایک امریکی فوجی زحمی ہو گیا۔

عراقی مزاحمت کاروں نے دھمکی دی ہے کہ اگر امریکی فوج نجف سے واپس نہ بلائیں گئیں تو امریکی اخبار نویس جس کو گزشتہ ہفتے اغواء کیا گیا تھا قتل کر دیا جائے گا۔

مقتدی الصدر کے حضرت علی کے روضے سے نکل جانےپر آمادہ ہونے کا پہلا اشارہ عراق کی قومی کانفرنس کے دوران ملا۔ قومی کانفرنس کے اجلاس کے چوتھے دن ایک خاتون مندوب نے ایک خط پڑھ کر سنایا جو ان کے بقول انہیں مقتدی الصدر نے بھیجا تھا۔ اس خط میں مقتدی الصدر نے عراق کی قومی کانفرنس کی شرائط پر رضامندی کا اظہار کیا تھا۔

ان شرائط میں عام معافی کے عوض سیاسی عمل میں شرکت کی شرط بھی شامل تھی۔

گزشتہ روز مقتدی الصد نے قومی کانفرنس کی طرف سے بھیجے گئے ایک وفد سے ملاقات کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

مقتدی الصدر کے ایک ترجمان شیخ حسن الزرقنی نے بی بی سی کو بتایا کہ شیعہ رہنما کی پیش کش سنجیدہ ہے تاہم انہوں نے کہا کہ قابض فوجوں کو اس پر عمل درآمد کی گارنٹی مہیا کرنی چاہیے نہ کہ ان لوگوں کو جو خود قبضے میں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکی فوج کو اس بات کی یقین دہانی کرانی چاہیے کہ معاہدے کے بعد وہ مہدی ملیشیا کو نشانہ بنانے کی کوشش نہیں کریں گے۔

عراق کی وزارتِ دفاع نے کہا کہ مہدی ملیشیا اگر نجف اور دوسرے شہروں میں مزاحمت ختم کر دے تو اس کے ارکان کو عام معافی دی جا سکتی ہے۔

نجف میں بی بی سی کی نمائندہ کیلی مورس نے اطلاع دی ہے کہ شہر میں جنگ بندی کا کوئی اشارہ نہیں ملتا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد