بغداد حملہ: امریکی فوجی ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی فوجی طیاروں نے پیر کی شب نجف میں شیعہ ملیشیا کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے اور منگل کی صبح فلوجہ میں بھی مزاحمت کاروں کو نشانہ بنایا ہے۔ ادھر امریکی فوج نے کہا ہے کہ بغداد میں راکٹ سے کیے جانیوالے ایک حملے میں ایک امریکی فوجی ہلاک ہوگیا ہے۔ امریکی فوج نے کہا کہ پیر کی شب اس دھماکے میں دو امریکی فوجی زخمی بھی ہوئے۔ فلوجہ سے ملنی والی اطلاعات کے مطابق امریکی فوجی ٹینکوں کو اس علاقے کی جانب پیش رفت کرتے ہوئے دیکھا گیا جسے نشانہ بنایا گیا تھا۔ امریکی فوج نے اس بارے میں کچھ نہیں کہا ہے۔ امریکی فوجی فلوجہ کے علاقوں میں اکثر بمباری کرتے ہیں جہاں ان کا کہنا ہے کہ مزاحمت کار پناہ لیے ہوئے ہیں۔ ادھر پیر کی شب نجف میں بڑے دھماکے اور گولیاں چلنے کی آوازیں سنی گئیں۔ اے سی ایک سو تیس امریکی طیارے شہر پر گردش کررہے تھے۔ اس سے قبل پیر کے دن نامہ نگاروں نے بتایا کہ روضۂ علی کے قریب سے دھویں کے کالے بادل فضا میں اٹھ رہے تھے اور ایسا لگتا تھا کہ امریکی فوجی روضۂ علی کے قریب تر جارہے ہیں۔ شیعہ ریڈیکل رہنما مقتدیٰ الصدر کے ساتھ روضۂ علی چھوڑنے کے لئے ہونیوالی امریکی اور عراقی کوششیں ابھی ناکام رہی ہیں۔ پیر کی شب امریکی ٹینکوں نے روضۂ علی کے اردگرد مورچہ سنبھالا تاکہ مقتدی الصدر اور ان کی شیعہ ملیشیا کے ارکان پر مزاحمت کے خاتمے کے لئے دباؤ بڑھایا جاسکے۔ بی بی سی کے نامہ نگار السٹیئر لیتھیڈ روضۂ علی کے اندر گئے اور بتایا ہے کہ مقتدیٰ الصدر کے لگ بھگ ایک ہزار حمایتی وہاں موجود ہیں جو بظاہر غیرمسلح ہیں۔ بی بی سی کے نامہ نگار نے دیکھا کہ دو لوگوں کو روضۂ علی میں لایا گیا جو فائرنگ میں زخمی ہوگئے تھے۔ مقتدیٰ الصدر کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ انہیں ابھی مفاہمت کی امید ہے لیکن فائربندی تبھی ہوگی جب امریکی اپنے بیرکوں میں چلے جائیں گے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ اگر امریکی چلے گئے تو مقتدیٰ الصدر کے حمایتی عوام میں گم ہوجائیں گے۔ پیر کے روز عراق سے دیگر اطلاعات ٭ بغداد کے علاقے صدر سٹی کی کچی بستی میں ہسپتال کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ چار عراقی مسلح جھڑپوں یا بم دھماکوں میں ہلاک ہوگئے ہیں۔ ٭ امریکی فوج کے ترجمان نے بتایا ہے کہ شمالی شہر تکریت میں ترکی کا ایک کنٹریکٹر اور دو عراقی اس وقت ہلاک ہوگئے جب ان پر چھپ کر حملہ کیا گیا۔ ٭ فرانسیسی۔امریکن صحافی میکا گارین کو ان کے اغوکاروں نے عراق کے جنوبی شہر ناصریہ میں رہا کردیا۔ دریں اثناء عراقی وزارت خارجہ نے کہا کہ نجف میں سنیچر کے دوپہر سے اتوار کے دوپہر کے درمیان ایک سو چوالیس افراد مارے گئے جن میں شہری اور ملیشیا کے ارکان شامل ہیں۔ اس بات کا پتہ نہیں ہے کہ مقتدیٰ الصدر کہاں ہیں لیکن ان کے ایک ترجمان نے عراقی پولیس کے اس بیان کو غلط بتایا کہ وہ نجف چھوڑ کر چلے گئے ہیں اور ملک کے شمال کی جانب جارہے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||