BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 26 August, 2004, 07:08 GMT 12:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کوفہ: 74 ہلاک اور 315 زخمی
نجف
نجف کی مسجد میں مقتدٰ الصدر کے حامی موجود ہیں
کوفہ کی ایک مسجد پر مارٹر حملے اور فائرنگ سے 74 افراد ہلاک اور 315 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔

کوفہ کی ایک مسجد میں مارٹر حملہ اس وقت ہوا جب ہزاروں لوگ آیت اللہ سیستانی کے استقبال کے لیے نجف جانے کے لیے مسجد میں جمع ہوئے تھے۔

ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ حملہ کس نے کیا تھا۔ امریکا اور عراق کی عبوری انتظامیہ نے کوفہ کی مسجد پر مارٹر حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

اطلاعات کے مطابق دھماکوں کے فورا بعد ہجوم پر فائرنگ شروع ہو گئی جس میں سینکڑوں لوگ ہلاک ہو گئے۔

کچھ لوگوں کے مطابق مسجد میں جمع لوگ مقتدی الصدر کے حامی تھی جو نجف جانے کے لیے جمع ہوئے تھے۔

اطلاعات کے مطابق آیت اللہ سیستانی نے نجف میں جاری جنگ کو بند کرانے کے لیے مطلقہ لوگوں سے رابطے شروع کر دیئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق آیت اللہ سیستانی کے نمائندوں نے مقتدی الصدر کے نمائندوں سے بات چیت کی ہے۔

مقتدیٰ الصدر بھی اسی مسجد میں جمعہ کی نماز پڑھاتے ہیں۔

دریں اثناء مسلح بندوق برداروں نے آیت اللہ سیستانی کے قافلے میں شامل افراد پر حملہ کیا ہے اور کئی افراد کے ہلاک اور زخمی ہونے کے بھی اطلاع ہے۔

آیت اللہ علی سیستانی ہزاروں افراد کے قافلے کے ساتھ نجف میں پہنچ گئے ہیں ہیں۔ وہ بدھ کے روز لندن سے دِل کے علاج کے بعد عراق واپس پہنچے تھے۔

توقع کی جا رہی ہے کہ وہ نجف میں تین ہفتے سے امریکی فوج اور ایک اور شیعہ رہنما مقتدیٰ الصدر کے حامی عراقی جنگجوؤں کے درمیان جاری لڑائی کے خاتمے کے لیے منصوبہ پیش کریں گے۔

آیت اللہ سیستانی کے قافلے کی حفاظت کے لیے مسلح محافظ گاڑیوں میں سفر کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ قافلہ کے ساتھ ہیلی کاپٹر بھی ہیں۔

قافلے کے ساتھ سفر کرنے والے بی بی سی کے ایک نامہ نگار کا کہنا ہے کہ نجف کی طرف جانے والی شاہراہ خالی کروا لی گئی تھی اور تھوڑے تھوڑے فاصلے پر عراقی سیکیورٹی دستے اور فوجی ہیلی کاپٹر بھی نظر آ رہے تھے۔

امن منصوبہ
آیت اللہ سیستانی نے بصرہ میں عراق کی عبوری حکومت کے نمائندوں سے بھی ملاقات میں اپنے امن منصوبہ پر بات کی۔ ان کے مشیروں کے مطابق ان کی تجویز ہے کہ نجف اور کوفہ کو اسلح سے پاک علاقہ قرار دے دیا جائے۔

تجویز کے تحت ان شہروں میں غیر ملکی افواج کی جگہ عراقی پولیس تعینات کی جائے گی اور لڑائی سے متاثر ہونے والے افراد کو ہرجانہ دیا جائے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد