کوفہ: 74 ہلاک اور 315 زخمی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کوفہ کی ایک مسجد پر مارٹر حملے اور فائرنگ سے 74 افراد ہلاک اور 315 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔ کوفہ کی ایک مسجد میں مارٹر حملہ اس وقت ہوا جب ہزاروں لوگ آیت اللہ سیستانی کے استقبال کے لیے نجف جانے کے لیے مسجد میں جمع ہوئے تھے۔ ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ حملہ کس نے کیا تھا۔ امریکا اور عراق کی عبوری انتظامیہ نے کوفہ کی مسجد پر مارٹر حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق دھماکوں کے فورا بعد ہجوم پر فائرنگ شروع ہو گئی جس میں سینکڑوں لوگ ہلاک ہو گئے۔ کچھ لوگوں کے مطابق مسجد میں جمع لوگ مقتدی الصدر کے حامی تھی جو نجف جانے کے لیے جمع ہوئے تھے۔ اطلاعات کے مطابق آیت اللہ سیستانی نے نجف میں جاری جنگ کو بند کرانے کے لیے مطلقہ لوگوں سے رابطے شروع کر دیئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق آیت اللہ سیستانی کے نمائندوں نے مقتدی الصدر کے نمائندوں سے بات چیت کی ہے۔ مقتدیٰ الصدر بھی اسی مسجد میں جمعہ کی نماز پڑھاتے ہیں۔ دریں اثناء مسلح بندوق برداروں نے آیت اللہ سیستانی کے قافلے میں شامل افراد پر حملہ کیا ہے اور کئی افراد کے ہلاک اور زخمی ہونے کے بھی اطلاع ہے۔ آیت اللہ علی سیستانی ہزاروں افراد کے قافلے کے ساتھ نجف میں پہنچ گئے ہیں ہیں۔ وہ بدھ کے روز لندن سے دِل کے علاج کے بعد عراق واپس پہنچے تھے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ وہ نجف میں تین ہفتے سے امریکی فوج اور ایک اور شیعہ رہنما مقتدیٰ الصدر کے حامی عراقی جنگجوؤں کے درمیان جاری لڑائی کے خاتمے کے لیے منصوبہ پیش کریں گے۔ آیت اللہ سیستانی کے قافلے کی حفاظت کے لیے مسلح محافظ گاڑیوں میں سفر کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ قافلہ کے ساتھ ہیلی کاپٹر بھی ہیں۔ قافلے کے ساتھ سفر کرنے والے بی بی سی کے ایک نامہ نگار کا کہنا ہے کہ نجف کی طرف جانے والی شاہراہ خالی کروا لی گئی تھی اور تھوڑے تھوڑے فاصلے پر عراقی سیکیورٹی دستے اور فوجی ہیلی کاپٹر بھی نظر آ رہے تھے۔ امن منصوبہ تجویز کے تحت ان شہروں میں غیر ملکی افواج کی جگہ عراقی پولیس تعینات کی جائے گی اور لڑائی سے متاثر ہونے والے افراد کو ہرجانہ دیا جائے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||