BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 11 September, 2004, 06:30 GMT 11:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ابوغریب میں بدسلوکی کا اعتراف
News image
ایک امریکی فوجی نے اعتراف کر لیا ہے کہ بغداد کی ابو غریب جیل میں اس نے عراقی قیدیوں کے ساتھ بد سلوکی کا ارتکاب کیا تھا۔

آرمین کروز امریکی فوج کی انٹیلی جینس کے وہ پہلے افسر ہیں جن پر اس طرح کے الزام کے تحت مقدمہ چلایا گیا ہے۔

ابو غریب جیل میں امریکی فوجیوں کی عراقی قیدیوں سے بدسلوکی امریکی شائستگی کے دعوے، اعلیٰ اخلاقی اقدار کے پرچار اور مہذب ہونے کے تفاخر کے لیے بدنامی کا داغ بن گئی ہے۔ لوگوں کو اس بات کا علم تب ہوا جب بے بس قیدیوں کے ساتھ انسانیت سوز سلوک مجسم شرم بن کر تصویروں کی شکل میں دنیا کے سامنے آگیا تھا۔

امریکی انٹیلی جینس کے افسر نے تسلیم کیا کہ انہوں نے عراقی قیدیوں کو جنسی فعل کی مختلف صورتوں پر عمل کرنے اور ننگے بدن رینگنے پر مجبور کیا۔

بغداد کی ملٹری عدالت نے اس اعترافِ جرم پر اپنا فیصلہ ابھی نہیں سنایا۔

گزشتہ ماہ ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جنس کے 23 افسروں اور چار عام ٹھکیداروں نے عراقی قیدیوں سے بدسلوکی کی حوصلہ افزائی کی تھی یا پھر اس پر چشم پوشی کی تھی۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ممکن ہے کہ عراقی قیدیوں سے بدسلوکی کی وجہ سے پچاس کے قریب افراد کو قانونی یا انضباطی کارروائی کا سامنا کرنے پڑے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد