ابوغریب میں بدسلوکی کا اعتراف | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک امریکی فوجی نے اعتراف کر لیا ہے کہ بغداد کی ابو غریب جیل میں اس نے عراقی قیدیوں کے ساتھ بد سلوکی کا ارتکاب کیا تھا۔ آرمین کروز امریکی فوج کی انٹیلی جینس کے وہ پہلے افسر ہیں جن پر اس طرح کے الزام کے تحت مقدمہ چلایا گیا ہے۔ ابو غریب جیل میں امریکی فوجیوں کی عراقی قیدیوں سے بدسلوکی امریکی شائستگی کے دعوے، اعلیٰ اخلاقی اقدار کے پرچار اور مہذب ہونے کے تفاخر کے لیے بدنامی کا داغ بن گئی ہے۔ لوگوں کو اس بات کا علم تب ہوا جب بے بس قیدیوں کے ساتھ انسانیت سوز سلوک مجسم شرم بن کر تصویروں کی شکل میں دنیا کے سامنے آگیا تھا۔ امریکی انٹیلی جینس کے افسر نے تسلیم کیا کہ انہوں نے عراقی قیدیوں کو جنسی فعل کی مختلف صورتوں پر عمل کرنے اور ننگے بدن رینگنے پر مجبور کیا۔ بغداد کی ملٹری عدالت نے اس اعترافِ جرم پر اپنا فیصلہ ابھی نہیں سنایا۔ گزشتہ ماہ ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جنس کے 23 افسروں اور چار عام ٹھکیداروں نے عراقی قیدیوں سے بدسلوکی کی حوصلہ افزائی کی تھی یا پھر اس پر چشم پوشی کی تھی۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ممکن ہے کہ عراقی قیدیوں سے بدسلوکی کی وجہ سے پچاس کے قریب افراد کو قانونی یا انضباطی کارروائی کا سامنا کرنے پڑے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||