فلوجہ اور تلعفر پر شدید بمباری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی فوج نے کہا ہے کہ دو عراقی شہروں میں مشتبہ مزاحمت کاروں کے ٹھکانوں پر شدید بمباری سے انہیں کافی جانی نقصان ہوا ہے۔ فوج کے ترجمان کے مطابق امریکی اور عراقی فوج نے مل کر شمالی شہر تلعفرمیں 57 کے قریب مزاحمت کار ہلاک کر دیے ہیں۔ ہسپتال کے ذرائع نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ ہسپتال میں 45 لاشیں اور 80 کے قریب زخمی ہسپتال میں لائے جا چکے ہیں۔ فلوجہ میں مزاحمت کاروں کے ایک ٹھکانے پر امریکی بمباری میں کم از کم نو افراد کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔ بغداد میں بی بی سی کی نامہ نگار کیرولین ہاؤلے نے کہا ہے کہ تلعفر اور فلوجہ ان کئی شہروں میں سے ایک ہیں جو پوری طرح مزاحمت کاروں کے کنٹرول میں ہیں۔ امریکی فوج کے مطابق شدت پسند تلعفر کے راستے شام سے عراق میں داخل ہوتے ہیں جو وہاں سے صرف 60 میل کے فاصلے پر ہے۔ اس سے قبل فلوجہ شہر میں امریکی جنگی طیاروں نے مختلف اہداف پر میزائیلوں سے حملہ کیا تھا جس میں آٹھ افراد ہلاک اور بہت سے زخمی ہو گئے تھے۔ ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ مرنے والوں میں عورتیں اور بچے بھی شامل تھے جو کہ گھروں میں سوتے ہوئے ہلاک ہو گئے۔ امریکی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکی طیاروں نے اردن سے تعلق رکھنے والے مبینہ دہشت گرد ابو مصاب الزروقوی کے حامیوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔ امریکہ ابو مصاب الزرقوی پر القاعدہ کا رکن ہونے کا بھی الزام عائد کرتا ہے۔ امریکی فوج پیر کو ایک کار بم دھماکے میں سات امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد سے فلوجہ پر مسلسل حملے کر رہی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||