عراق: پانچ سو افراد گرفتار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بغداد کے جنوب میں لطیفیہ کے قصبے میں ہونے والی ایک بڑی کارروائی میں پانچ سو افراد کو مزاحمت کارروں سے تعلق کے شبہ میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق اس کارروائی میں بڑی تعداد میں ہتھیار اور گولہ بارود بھی قبضے میں لیے گئے۔اس کارروائی کے دوران ایک درجن سے زائد عراقی پولیس کے اہلکار ہلاک بھی ہو گئے تھے۔ حکام کے مطابق گرفتار شدہ لوگوں میں کوئی غیر ملکی شامل نہیں ہے۔ بغداد سے بی بی سی کے نامہ نگار پال ووڈ کا کہنا ہے کہ لطیفیہ کی کارروائی سے ظاہر ہوتا ہے کہ باوجود اس امر کہ عراق میں جاری مزاحمت میں القاعدہ کے ملوث ہونے کا الزام لگایا جاتا رہا ہے اس مزاحمت میں زیادہ تر عراق شہری شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ مزاحمت کے لیے نہ تو اسلحہ اور گولہ بارود جس میں ٹینک شکن راکٹس اور مارٹر شامل ہیں کی کمی ہے اور نہ ہی رضاکاروں کی۔ بغداد کے شمال میں اتوار کو دوسرے دن بھی امریکی فوج اور مزاحمت کارروں میں جھڑپیں جاری رہیں۔ امریکی حکام کے مطابق دو امریکی فوجی بلاد کے فوجی اڈے پر راکٹ حملے میں ہلاک ہو گئے۔ اس حملے میں سولہ دوسرے افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ زخمی ہونے والے ایک امریکی فوجی کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔ عراقی وزیر دفاع نے ان اطلاعات کی تردید کر دی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ سابق صدر صدام حسین کے ایک قریبی ساتھی عزت ابراہیم الدوری کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اس سے پہلے وزارتِ دفاع کی طرف سے ہی جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ عزت ابراہیم الدوری جن کے سر کی قیمت ایک کروڑ ڈالر مقرر کی گئی تھی شمالی شہر کرکک سے گرفتار کر لیے گئے ہیں۔ تاہم بعد میں امریکی فوج نے بھی ان خبروں کی تردید کر دی۔ دریں اثناء ایک عراقی مسلح گروہ نے اغواء کی کارروائیوں کے بارے میں علماء سے فتوی جاری کرنے کو کہا ہے۔ اس گروپ نے علما سے کہا ہے کہ وہ فتوی جاری کریں کہ آیا لوگوں کو اغواء کرنا مذہبی نکتہ نگاہ سے جائز ہے۔ بغداد کے شمال میں ایک فوجی قافلے کے سڑک کے کنارے نصب بم سے ٹکرا جانے سے ایک امریکی فوجی اور دو عراقی شہری زخمی ہو گئے ہیں۔ عراق کے شمالی شہر کرکک میں ایک سڑک کے کنارے ایک مصری باشندے کی لاش ملی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||