الدوری کی گرفتاری پر شبہہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی اور عراقی افواج نے صدام حسین کے قریبی ساتھی عزت ابراہیم کو پکڑنے کے لئے ایک بڑی فوجی کارروائی کررہے ہیں۔ ابتدائی اطلاعات میں کہا گیا تھا کہ عزت ابراہیم کو پکڑلیا گیا ہے تاہم اس کے بعد یہ ابہام پیدا ہوگیا ہے کہ وہ حراست میں ہیں یا نہیں۔ عراقی وزراء کے اس دعوے کے باوجود کہ عزت ابراہیم حراست میں ہیں، تازہ اطلاعات سے ایسا لگتا ہے کہ عزت ابراہیم امریکی یا عراقی حراست میں نہیں ہیں۔ بغداد میں عراقی حکومت کے اہلکاروں نے کہا ہے کہ عزت ابراہیم کو پکڑنے کی کارروائی میں ستر افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ یہ فوجی آپریشن صدام حسین کے آبائی شہر تکریت میں کیا گیا۔ یہ بھی کہا گیا تھا کہ تکریت میں ہونے والی اس کارروائی کے دوران کم سے کم اسی افراد گرفتار بھی کیے گئے۔ صدام حسین کے قریبی ساتھی عزت ابراہیم الدوری کے سر کی قیمت ایک کروڑ ڈالر مقرر کی گئی ہے۔ سکیورٹی فورسز ابھی عزت ابراہیم الدوری کی شناخت کی تصدیق کرنے کے لیے مزید تفتیش کر رہے ہیں۔ صدام حسین کے دور میں عزت ابراہیم الدوری ریولوشنری کمانڈ کونسل کے چیئرمین اور عراقی افواج کے نائب چیف تھے۔ وہ تکریت میں صدا م حسین کے آبائی شہر میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک برف فروش کے صاحزادے تھے لیکن بعث پارٹی کے انقالاب کے بعد انہوں نے عراق میں جلد ترقی حاصل کی۔ ان کی ایک صاحبزادی صدام حسین کے بیٹے اودے کے نکاح میں بھی رہیں۔ اس سے قبل شمالی عراق میں کرکک کے مقام پر ایک کار بم دھماکے میں کم از کم سترہ افراد ہلاک اور بیس کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔ یہ دھماکہ کرکک میں ایک پولیس اکیڈمی کے باہر اس وقت ہوا جب دن کے اختتام پر لوگ ٹریننگ اکیڈمی سے واپس جا رہے تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ خود کش بمبار نے اکیڈمی کے نزدیک پہنچتے ہی اپنے آپ کو کار سمیت اڑا دیا۔ دھماکے سے وسیع پیمانے پر نقصان ہوا اور جب ایمبولینس گاڑیاں وہاں پہنچیں تو سات کاریں بھی وہاں جل کر راکھ ہو چکی تھیں۔ شمالی شہر موصل میں مزاحمت کاروں اور امریکی فوج کے درمیان لڑائی میں ہسپتال کے ذرائع کے مطابق تیرہ افراد ہلاک اور پچاس زخمی ہوئے ہیں۔ امریکی فوجی موصل میں مزاحمت کاروں کے خلاف آپریشن کر رہے ہیں۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ لڑائی میں اس وقت شدت آئی جب امریکی ہیلی کاپٹر کو دھماکوں اور مشین گن کی فائرنگ کے دوران نیچے اترنے پر مجبور کر دیا گیا۔ جنوبی بغداد میں دو سو کے قریب عراقیوں کو مشتبہ سمجھ کر گرفتار کیا گیا ہے اور لطیفیہ میں بارہ پولیس اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔ ادھر جنوبی عراق میں حملہ آوروں نے بصرہ کے قریب تیل کی ایک پائپ لائن کو نذرِ آتش کر دیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||