عراق: پانچ سو مزاحمت کار گرفتار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں حکام کا کہنا ہے کہ ایک فوجی آپریشن کے دوران لگ بھگ پانچ سو لوگوں کو مزاحمت کار گروہوں سے تعلق رکھنے کے شبہے میں گرفتار کرلیا گیا ہے۔ حکام نے بتایا کہ بغداد کے جنوب میں لطیفیہ شہر میں اس کارروائی کے دوران گرفتار ہونیوالوں میں کوئی بھی غیرملکی نہیں ہے۔ بغداد میں بی بی سی کے نامہ نگار پال ووڈ کا کہنا ہے کہ گرفتاریوں سے پتہ چلتا ہے کہ عراق میں مزاحمت کار عراقی ہی ہیں۔ ماضی میں مبصرین یہ کہتے رہے ہیں کہ مزاحمت کاروں میں بڑی تعداد غیرملکیوں کی ہے۔ اس کارروائی کے دوران ٹینک شکن راکٹ، مورٹار اور ڈائنیمائیٹ برآمد کیے گئے۔ حکام کے مطابق اس کارروائی میں بارہ عراقی پولیس کے اہلکار مارے گئے۔ لطیفیہ وہ شہر ہے جہاں سے حال ہی میں دو فرانسیسی صحافیوں کو اغوا کیا گیا تھا۔ دریں اثناء موصل شہر کے مغرب میں طلافار کے مقام پر امریکی فوج کے ذریعے شدت پسندوں کے خلاف شروع کی جانیوالی فوجی کارروائی آج بھی جارہی ہے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ اس شہر میں ملکِ شام سے آنیوالے شدت پسند پناہ لیتے ہیں۔ پولیس کے اہلکار غیث محمد العبیدی نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ مزاحمت کاروں کا ابھی بھی طلافار شہر پر کنٹرول برقرار ہے۔ سنیچر کے روز کرک میں ہونیوالے ایک خودکش بم دھماکے میں سترہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||