بغداد حملے پر نئے شواہد | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے دارالحکومت بغداد میں جہاں گزشتہ کئی ماہ میں شدید ترین جھڑپیں جاری ہیں وہیں اتوار کو شہر کی ہیفہ سٹریٹ کو بھی ایک خونریز واقعہ پیش آیا ہے۔ اگرچہ اس واقعہ پر ٹی وی کے کیمروں کی نگاہ رہی لیکن اصل واقعے کے بارے میں دو خاصی مختلف تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ امریکی ہیلی کاپٹروں کی فائرنگ سے تیرہ افراد اور ساٹھ زخمی ہو گئے تھے۔ یہ واقعہ اس واقت پیش آیا جب یہ لوگ تباہ شدہ امریکی بکتر بند گاڑی ’بریڈلی فائیٹنگ وہیکل‘ کے گرد جمع تھے۔ اس بکتر بند گاڑی کو باغیوں نے صبح سویرے گھات لگا کر نشانہ بنایا تھا۔ ٹی وی کیمروں سے بنائی گئی فلم میں چند درجن عراقی، ہیلی کاپٹر سے میزائل داغے جانے سے پہلے، امریکی بکتر بند گاڑی کے گرد کھڑے نظر آ رہے ہیں۔ دو سعودی ٹی وی نیٹ ورک العربیہ اور الاخباریہ کے لیے کام کرنے والے فلسطینی نژاد صحافی ماذن تومیسی کیمرے کے سامنے ریکارڈنگ کی تیاری کر رہے ہیں کہ اچانک ایک زوردار دھماکہ ہوتا ہے، کیمرہ بری طرح جھولتا ہے اور سڑک پر دھواں چھا جاتا ہے۔ تومیسی سڑک پر گرتے ہیں اور کیمرے کا لینز خون کے چھینٹوں سے بھر جاتا ہے۔ جھولتے ہوئے کیمرے پر شدید زخموں سے کراہتے تومیسی کے یہ آخری الفاظ ریکارڈ ہو جاتے ہیں ’میں مر جاؤں گا، میں مر جاؤں گا۔ سیف (تومیسی کا کیمرہ مین)۔۔۔ سیف، میں مر جاؤں گا۔‘ عین ممکن ہے کہ تومیسی کے دو بچے جو چند ہی لمحے پہلے کیمرے کی طرف دیکھ کر مسکرا رہے ہوں گے، اس واقعہ میں ہلاک ہو چکے ہوں گے۔
ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں میں کہا گیا کہ ہیفہ سٹریٹ میں لڑائی مقامی وقت کے مطابق صبح چار بج کر چالیس منٹ پر شروع ہوئی۔ ہیفہ سٹریٹ دریائے دجلہ کے مغربی کنارے پر واقع ہے اور امریکی کنٹرول سے باہر ہے۔ یہ سٹریٹ نشانچیوں کی کارروائیوں کے لیے مشہور ہے۔ امریکی بکتر بند گاڑی بریڈلی گرین زون نامی علاقے کی طرف، جہاں امریکی فوج اور عراقی انتظامیہ کے دفاتر قائم ہیں، بڑھ رہی تھی کیونکہ وہاں مارٹر گولے داغے گئے تھے۔ لیکن گرین زون کی طرف بڑھتے ہوئے بریڈلی سڑک کے کنارے نصب بم سے ٹکرا کر آگ کی لپیٹ میں آ گئی تھی۔ اس واقعہ کے بعد اطلاعات کے مطابق تباہ شدہ بریڈلی کے گرد ایک گھنٹے تک لڑائی اور فائرنگ جاری رہی۔ حملہ آوروں نے امریکی امدادی عملے پر فائرنگ کی جو اس بکتر بند گاڑی کو جائے وقوع سے دور لے جا رہا تھا۔ صبح آٹھ بجنے سے قبل صحافیوں کے وہاں پہنچنے تک لڑائی کی شدت میں یقیناً کمی آ گئی تھی۔ پریس کے فوٹو گرافروں نے تباہ شدہ بریڈلی اور اس کے گرد جمع عراقیوں کی تصاویر بنائیں۔ ان میں وہ نوجوان مرد بھی شامل تھے جو القاعدہ سے تعلق رکھنے والی الزرقاوی کی تنظیم ’توحید اور جہاد‘ کے جھنڈے لہرا رہے تھے۔ تاہم وہاں جمع لوگوں کی زیادہ تعداد اس ’خونریزی‘ پر خوشیاں مناتی نہیں بلکہ خاموش کھڑی بریڈلی کو گھورتی نظر آ رہی تھی۔
ہیلی کاپٹر سے کیے گئے حملے کی ابتدائی خبر سات بج کر چھپن منٹ پر موصول ہوتی ہے اور اطلاعات کے مطابق ہیلی کاپٹر سے دو میزائل داغے جانے کے علاوہ مشین گن کا رخ نیچے کھڑے ہجوم کی طرف کر دیا جاتا ہے۔ دھواں چھٹنے کے بعد بہت سے لوگ زخمیوں کو دور لے جاتے نظر آتے ہیں۔ سڑک پر جگہ جگہ خون اور جوتے بکھرے نظر آتے ہیں اور ہر جگہ دھول سے اٹی دکھائی دیتی ہے۔ امریکی فوج کی جانب سے جاری کردہ بیان میں دیگر ذرائع ابلاع کے برعکس اس خونریز جھڑپ کے وقفے کو مختصر کر کے بتایا جاتا ہے۔ امریکی بیان میں کہا جاتا ہے کہ بریڈلی پر چھ بج کر پچاس منٹ پر ہونے والے حملے کے چالیس منٹ بعد سات بج کر تیس منٹ پر ہیلی کاپٹر سے حملہ ہوتا ہے جبکہ دیگر ذرائع کے مطابق فضائی حملہ بریڈلی پر حملے کے تین گھنٹے بعد ہوتا ہے اور اس دوران صحافیوں اور مقامی لوگوں سمیت بہت سے لوگ وہاں کھڑے بریڈلی کو جلتے دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ امریکی فوج کی جانب سے اتوار کی شام کو جاری کردہ ابتدائی تفصیلات میں کہا جاتا ہے کہ ہیلی کاپٹر سے تباہ شدہ بریڈلی کو نشانہ بنایا گیا تاکہ ’علاقے میں لوٹ مار نہ ہو اور عراقیوں کو نقصان سے بچایا جا سکے۔‘ اس بیان کے چند گھنٹے بعد پیش کی جانے والی تفصیلات میں کہا جاتا ہے کہ بریڈلی کا عملہ فضائی کمک مانگتا ہے تاکہ لوٹ مار کو روکا جائے لیکن ہیلی کاپٹر پر زمین سے فائرنگ کی جاتی ہے۔ امریکہ اپنے بیان میں کہتا ہے کہ ’ہیلی کاپٹر واضح طور پر جنگی قوانین کے تحت ہی جوابی کارروائی کر رہا تھا اور بریڈلی کے گرد جمع اور عراقیوں کے خلاف سرگرم چند عناصر کو تباہ کر دیتا ہے۔‘ پیر کے روز بغداد سے کیے گئے ایک فون میں امریکی فوج اس بات کی وضاحت کرنے میں ناکام رہتی ہے کہ ٹی وی پر دکھائی گئی ریکارڈنگ یا پریس کی تصاویر میں لوگ ہتھیار اٹھائے نظر کیوں نہیں آ رہے اور نہ ہی فائرنگ کی آواز سنائی دے رہی ہے۔ ہیفہ سٹریٹ پر کیا گیا حملہ اس حوالے سے زیادہ اہم اور نازک ہے کیونکہ ایک تو یہ میڈیا کی نگاہ میں رہا اور دوسرا یہ کہ عام شہریوں کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں کے سبب عراقیوں کی برہمی میں مزید اضافہ ہو گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||