BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 13 September, 2004, 02:29 GMT 07:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراق میں شدید تشدد، 70 ہلاک
بغداد میں لڑائی
بغداد کے سب سے محفوظ علاقے میں کالے دھویں کے بادل چھائے رہے
عراق میں وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ ملک کے مختلف شہروں میں ہونے والے تشدد کے شدید ترین واقعات میں کم از کم ستر افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق بغداد کے مرکزی علاقے میں عبوری حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے اب تک کی شدید ترین لڑائی ہوئی ہے۔

بغداد میں اتوار کے روز گھنٹوں لڑائی جاری رہی اور تیس سے زائد افراد ہلاک ہو گئے۔

دریق اثناء امریکی وزیرِ خارجہ کولن پاول نے کہا ہے کہ امریکی اور عراقی افواج بالآخر ’بغاوت‘ پر قابو پا لیں گے۔

انہوں نے ایک امریکی ٹی وی این بی سی کو بتایا کہ ’یہ مشکل وقت ہے اور بغاوت بڑھ رہی ہے اور ہم اسے قابو کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن ہم اسے کنٹرول کر لیں گے‘۔

بغداد میں لڑائی میں مزاحمت کاروں نے حکومتی عمارتوں پر حملوں کے لیے اور راکٹ اور مارٹر استعمال کیے۔

بغداد کے علاوہ مغرب، شمال اور جنوبی علاقوں میں بھی لڑائی ہوئی۔

بغداد کے مغربی میں رمادی شہر میں امریکی اور عراقی فوجوں کے ساتھ جھڑپوں میں دس مزاحمتی ہلاک ہو گئے۔

بغداد کے’ گرین زون‘ کے علاقے پر جہاں عراقی عبوری حکومت کے دفاتر، امریکہ اور دیگر ممالک کے سفارت خانے قائم ہیں ، راکٹوں اور مارٹروں سے حملہ کیا گیا۔

بغداد میں شدید لڑائی
جلتی ہوئی امریکی گاڑی پر ایک عراقی جھنڈا لہرا رہا ہے

ایک دھماکہ فرانسیسی سفارتخانے کے کار پارک میں ہوا لیکن کسی کے ہلاک یا زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ دوسرے گولے اور مارٹر اہم ہوٹلوں کے قریب گرے۔

سب سے زیادہ لڑائی صدام حسین کے حامیوں کے علاقے حیفہ سٹریٹ پر ہوئی۔ عینی شاہدوں کے مطابق بغداد میں یہ شدید ترین لڑائی ہے۔امریکی ہیلی کاپٹروں نے بھی فوجی کارروائی میں حصہ لیا اور علاقے میں مختلف جگہوں پر راکٹوں سے حملہ کیا ہے۔

امریکی ہیلی کاپٹر نے ایک تباہ شدہ امریکی گاڑی کے گرد کھڑے لوگوں پر میزائیل فائر کیا جس کے نتیجے میں دو بچے اور عرب ٹی وی چینل، العریبہ، کے ایک صحافی ہلاک ہو گئے۔

بغداد کا گرین زون کا علاقہ جس میں سرکاری دفاتر اور غیر ملکی سفارت خانے قائم ہیں عراقی مزاحمت کارروں کی کارروائیوں کا اکثر نشانہ بنتا رہتا ہے۔

اتوار کی صبح بغداد میں درجنوں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور پوار شہر ان دھماکوں سے لرزتا رہا۔

اطلاعات کے مطابق ابو غریب جیل پر بھی ایک کار بم سے حملہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے جسے ناکام بنا دیا گیا۔ گارڈز نے ایک گاڑی پر فائرنگ کی جو ایک زور دار دھماکے سے پھٹ گئی۔

مغربی بغداد میں ایک کار بم دھماکے کی بھی اطلاع ہے جس میں دو پولیس والوں سمیت ایک بچہ بھی ہلاک ہوگیا۔

بغداد کے جنوب میں ہلا شہر میں عراقی نیشنل گارڈز کے تین اہلکاروں کو ہلاک کر دیا گیا اور اسی علاقے میں پولینڈ کے تین فوجیوں کو بھی گھات لگا کر ہلاک کر دیا گیا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد