BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 14 September, 2004, 01:13 GMT 06:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ترکی کی امریکہ کو دھمکی
تلعفر میں مزاحمت کار
تلعفر کی زیادہ تر آبادی ترکمان ہے
ترکی نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے عراق میں ترکمان باشندوں کی آبادی والے شہروں پر حملے بند نہ کیے تو وہ امریکہ سے عراقی امور میں تعاون بند کردے گا۔

ترک وزیر خارجہ عبداللہ گل نے بتایا کہ انہوں نے امریکی وزیر خارجہ کولن پاول کو یہ پیغام دیا ہے۔

جمعرات کو تلعفر کے قصبے پر امریکی حملے میں ایک درجن کے قریب افراد ہلاک ہوئے تھے۔ شام کی سرحد سے کوئی پچھتر کلومیٹر دور اس قصبے کے بارے میں امریکی کہتے ہیں کہ باہر سے آنے والے عسکریت پسند اسے اپنے پڑاؤ کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

انقرہ میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق ترک حکومت وہاں کے حالات کو تشویش کی نگاہ سے دیکھ رہی تھی اور اب اس نے یہ کھلی دھمکی دی ہے۔

اگر ترکی نے واقعی تعاون بند کردیا تو امریکہ کے لیے یہ سنگین بات ہوگی کیونکہ ترکی نہ صرف امریکی فوجوں کی نقل و حمل کا بندوبست کرتا ہے بلکہ عراق سے سپلائی اور تجارت کا راستہ بھی ترکی سے جاتا ہے۔

اس کے علاوہ انجرلک کے فوجی ہوائی اڈے کا معاملہ بھی بیچ میں آن پڑے گا جسے امریکی اپنی فوجوں کی آمد و رفت کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یعنی امریکہ کو ترکی کی بہت ضرورت ہے اس لیے ترک وزیر خارجہ کی بات اسے سننی پڑے گی۔

ہفتے اور اتوار کے دن عراق میں بہت ہی خوں ریز ثابت ہوئے جن کا اختتام پیر کو فلوجہ پر، جو کم و بیش مزاحمت پسندوں کے ہاتھوں میں ہے، عراقی بمباری کے نتیجے میں کم سے کم بیس عراقیوں کی موت پر ہوا۔

دریں اثناء فرانس کے صدر ژاک شیراک نے عراق کی مجموعی صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ میں کسی ملک کے نیک و بد پر فیصلہ نہیں کرنا چاہتا لیکن میں اتنا جانتا ہوں کہ صورت حال بہت سنگین ہے اور کسی طرح نہیں سدھر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم نے عذاب کی ایک پٹاری کا ڈھکنا کھول دیا ہے اور اسے بند نہیں کرپارہے ہیں۔ اندیشہ یہ ہے کہ اسے کے خطرناک نتائج نکلیں گے۔ اور ہم نے اپنی اپنی جو بھی پوزیشن صاف دل کے ساتھ اختیار کرلی تھی اور سمجھ رہے تھے کہ یہی درست پوزیشن ہے اس سے ہٹنے کا نام نہیں لے رہے ہیں‘۔

ظاہر ہے کہ یہ اشارہ امریکہ اور برطانہ کی جانب تھا۔ امریکی وزارت دفاع نے اس تنقید کا جوب دیا ہے کہ عراق میں مزاحمت اور عسکریت پسندوں سے نمٹنے کے لیے اس کے پاس کوئی لائحہ عمل نہیں ہے۔

پینٹاگون کے افسر کہتے ہیں کہ ہمارے پاس فلوجہ، رمادی اور سمارہ کو مزاحمت پسندوں سے خالی کرنے کی تدبیر ہے اور بالآخر ہم ان مقامات کو خالی کرالیں گے۔

بی بی سی کے نامہ نگار نک چائلڈز کا کہنا ہے کہ تدبیر یہ معلوم ہوتی ہے کہ امریکہ زیادہ ذمہ داریاں عراقی سکیورٹی کے سپرد کرے۔ لیکن وہ ابھی تک ان ذمہ داریوں کے لیے تیار نہیں ہیں۔

اس پر امریکیوں اور عراق کی عبوری حکومت کے درمیان الجھنیں بھی پیدا ہورہی ہیں اور دوسری جانب مزاحمت میں اضافہ ہو رہا ہے جس سے یہ تاثر مل رہا ہے کہ حالات امریکہ کے قابو سے باہر ہوتے جارہے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد