فلوجہ کی دعائیں اور آنسو | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلوجہ کے باہر امریکی فوج جمع ہے اور شہریوں پر کسی بھی وقت شروع ہونے والے امریکی حملے کا خوف طاری ہے۔ شہر میں ایک صحافی نے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ شہر میں رک جانے والے لوگ بمباری اور محاصرے کا کس طرح سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا ’جب میں اپنے پڑوس میں بم گرنے کی آواز سنتا ہوں تو ایسا لگتا ہے کہ میں کسی بھی لمحے مر جاؤں گا‘۔ بمباری رات کے وقت شدید ہوتی ہے۔ بم گرنے کی آواز کے ساتھ ہی اس جگہ سے رونے کی آوازیں آتی ہیں۔ ایک عجیب سا احساس ہوتا ہے کیونکہ رونے کی آوازوں کے ساتھ ساتھ میزائیلوں کی آوازیں بھی جاری رہتی ہیں اور عین اس وقت میں سمجھتا ہوں اب میری باری ہے۔ بمباری کے دوران دعاؤں کی آوازیں بھی آتی ہیں۔ لوگ خوفزدہ ہونے کی وجہ سے گڑ گڑا کر دعا مانگتے ہیں۔ کبھی غیر معمولی الفاظ بھی سنائی دیتے ہیں کیونکہ لوگ ایسی دعائیں مانگ رہے ہوتے ہیں جو اس سے پہلے کبھی سننے میں نہیں آئیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے وہ نئی دعائیں بنا رہے ہیں۔ لوگوں کے لیے امریکی انتخابات زندگی اور موت کا مسئلہ تھے۔ اکثر لوگ جان کیری کی جیت کے خواہشمند تھے کیونکہ ان کا خیال تھا کہ وہ ان کے شہر پر اس طرح حملے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ظاہر ہے کہ فلوجہ کے شہریوں کو معلوم ہے کہ امریکہ کی عراق کے بارے میں عمومی پالیسی تبدیل نہیں ہوگی۔ لیکن پھر بھی جہاں تک فلوجہ کا تعلق ہے کیری کے جیتنے سے ہمیں بہتری کی امید تھی۔ شہر کے شمال میں بمباری کے بعد میں نے اپنا گھر ایک ماہ قبل چھوڑ دیا تھا۔ اب شہر کے مرکز میں اپنے چند دوستوں کے ساتھ رہتا ہوں۔ ہمارے بیوی بچے شہر سے جا چکے ہیں۔ ہم مل کر پکاتے اور کھاتے ہیں اور زیادہ تر وقت گھر کے اندر گزارتے ہیں۔ گھر سے نکلنے کے لیے سب سے محفوظ وقت صبح سات سے دوپہر ایک بجے تک ہے جب امریکی بمباری میں وقفہ کرتے ہیں۔ شہر کے مرکز میں بازار دوپہر تک کھلتا ہے۔ کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ کھانے پینے کی اشیا کب ختم ہو جائیں۔ دو روز قبل حکومت نے کہا تھا کہ وہ فلوجہ سے بغداد اور رمادی کے راستے بند کر رہی ہے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ اس کے بعد ہم کیا کھائیں گے۔ میرا خیال ہے کہ کچھ گوشت مل ہی جایا کرے گا۔ میں نے شہر میں بہت سی بھیڑ بکریاں دیکھی ہیں۔ اس وقت شہر سے نکلنے کا صرف ایک راستہ ہے جس پر امریکی چیک پوسٹ قائم ہے۔ ہمارے خیال میں یہ راستہ بھی جلد ہی بند ہو جائے گا۔ بہت سے لوگ شہر چھوڑ چکے ہیں۔ زیادہ تر مرد پیچھے رہ گئے ہیں۔ یہ پانچ لاکھ لوگوں کا شہر تھا۔ میرے اندازے کے مطابق اب یہاں صرف ایک لاکھ لوگ رہ گئے ہیں۔ موجودہ حالات میں عراق میں رہنا بہت مشکل ہے۔ روزگار کے زیادہ مواقع بھی نہیں ہیں۔ میں نے جتنے بھی ہسپتال دیکھے ہیں وہاں لوگوں کا بہت ہجوم ہوتا ہے لیکن ادویات نہیں ہیں۔ بجلی کے خراب نظام کی وجہ سے آپریشن کرنا بھی بہت مشکل ہے۔ ہر روز دس سے اٹھارہ کیس وہاں لائے جاتے ہیں۔ زخمیوں کو معلوم ہے کہ ان کا علاج نہیں ہو سکے گا۔ وہ صرف ڈاکٹروں کے قریب ہونے اور ان کی باتیں سننے کے لیے آتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||