فلوجہ مذاکرات ، وقت کم ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے عبوری وزیرِاعظم ایاد علاوی نے کہا ہے کہ فلوجہ پر کسی بڑے حملے کوٹالنےکیلیے مذاکرات کا وقت گذرتا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ قبائلی رہنماؤں سے ملاقات کے بعد شہر پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کا پختہ ارادہ رکھتے تھے چاہے انہیں اس کیلیے فوج کی مدد لینا پڑتی۔ ایاد علاوی نے یہ بھی بتایا کہ حالیہ ہفتوں میں ایک سو سڑسٹھ اسلامی شدت پسندوں اور سابقہ حکومت کے حامیوں کو گرفتار کیاگیاہے۔ دریں اثناء امریکی فوجوں نے فلوجہ پر اپنی بمباری جاری رکھی۔ بی بی سی کی کلئیر مارشل نے بغداد سے بتایا کہ شہر پر ایک بڑا حملہ متوقع اور ناگزیر ہے ۔ امریکی فوجیں کئی ہفتوں سے ایک بڑے حملے کی تیاری کے ساتھ ساتھ فلوجہ پر اپنی بمباری جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ایاد علاوی نے کہا کہ مذاکرات اپنے آخری مراحل میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’ہمیں عراق کو مستحکم کرنا ہے اور پر امن تصفیہ کا دروازہ بند ہوتا نظر آ رہا ہے‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ’اگر یہ معاملہ پرامن طور پر حل نہ ہوا تو طاقت کا استعمال کیا جائے گا‘۔ ’الزرقاوی ، صدام اور بن لادن کے لوگوں کے ساتھ کوئی پرامن تصفیہ نہیں ہو گا‘ انہوں نے کہا کہ حالیہ ہفتوں کے دوران سابقہ عراقی رہنما صدام حسین کے دستِ راست عزت ابراہیم کے حامیوں کو گرفتار کیاگیاہے۔جن میں دو سینیئر رہنما بھی شامل ہیں۔ ایاد علاوی نے کہا کہ اس کے علاوہ گرفتار ہونے والے ایک سو سڑسٹھ اسلامی شدت پسند میں سے زیادہ تر کا تعلق عرب ممالک سے ہے۔گرفتارشدگان میں سے چار اردنی دہشت گرد ابو موسیٰ الزرقاوی کے قریبی ساتھی ہیں۔ ایاد علاوی نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ الیکشن اپنے معمول کے مطابق جنوری میں ہوں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||