’امریکی حملہ: لاکھ عراقی ہلاکتیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک تازہ تحقیق کے مطابق گزشتہ سال عراق پر امریکی حملے کے نتیجے میں ایک لاکھ عام شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ جان ہوپکِن یونیورسٹی کے پبلک ہیلتھ سکول میں ہونے والی تحقیق کے مطابق ہلاک ہونے والے عام شہریوں کی یہ تعداد ایک سروے کے ذریعے حاصل کی گئی ہے۔ برطانیہ اور امریکہ دونوں ملکوں کی حکومتوں نے اس رپورٹ پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ امریکی محکمۂ دفاع کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ شہریوں کی ہلاکتیں سانحہ ضرور ہیں لیکن ان کے ذمہ دار مزاحمت کرنے والے ہیں جو شہریوں کو اپنی ڈھال بنالیتے ہیں اور ہماری فوجوں پر شہری آبادیوں کے اندر سے حملے کرتے ہیں۔ سروے میں ایک ہزار عراقی خاندانوں کو منتخب کیا گیا تھا۔ اس میں گزشتہ سال مارچ میں ہونے والے امریکی حملے سے اٹھارہ ماہ پہلے اور اٹھارہ ماہ بعد میں ہونے والی ہلاکتوں کو اکٹھا کیا گیا ہے۔ رپورٹ مرتب کرنے والی ٹیم کے ایک رکن گلبرٹ برنھیم نے بی بی سی کو بتایا کہ اگرچہ ہلاک ہونے والے عراقی شہریوں کی تعداد بالکل صحیح نہیں ہے لیکن اس سے اس بات کی طرف اشارہ ملتا ہے کہ امریکی حملے کے نتیجے میں ہلاکتوں میں خاصا اضافہ ہوا ہے۔ مسٹر برنھیم کے مطابق زیادہ تر افراد گنجان آباد علاقوں پر ہونے والی بمباری کے نتیجے میں ہلاک ہوئے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||