عراقیوں کی ملک سےباہر’غیرقانوی‘منتقلی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی اخبار ’دی واشنگٹن پوسٹ‘ کے مطابق امریکی خفیہ ادارے ’سی آئی اے‘ کے زیرِحراست عراقیوں کو پوچھ گچھ کے لیے ملک سے باہر لے جایا گیا ہے۔ سی آئی اے کی درخواست پر امریکی محکمۂ انصاف نے مبینہ طور پر ایک خفیہ دستاویز تیار کی ہے جس میں ان افراد کا ذکر ہے جنہیں گزشتہ تقریباً چھ ماہ کے دوران دوسری جگہ منتقل کرنے کی اجازت دی جا گئی ہے۔ ایک افسر نے کہ جن کا نام ظاہر نہیں کیا گیا ہے، اخبار کو بتایا کہ بین الاقوامی ادارے ریڈ کراس کےحکام نے ان افراد سےملاقات نہیں کی ہے۔ ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ یہ اقدام جنیوا معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔ اخبار نے لکھا ہے کہ معاہدے کے مطابق کسی ایک شخص یا گروہ کی ملک سے جبری منتقلی پر ممانعت ہے۔ امریکی محکمۂ انصاف کے دستاویز کے مطابق سی آئی اے کو مبینہ طور پر اجازت دی گئی ہے کہ وہ پوچھ گچھ کی غرض سے عراقیوں کو ’مختصر اور مخصوص‘ مدت کے لیے ملک سے باہر لے جائیں۔ ان افراد کی مبینہ منتقلی افغانستان میں جنگ کے دوران امریکی فوج کے ہاتھوں القاعدہ کے جنگجوؤں کے ملک سے نکالے جانےکی یاد تازہ کرتا ہے۔ دو امریکی سینیٹروں کا کہنا ہے کہ انہیں اس رپورٹ پر تشویش ہے۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق سی آئی اے اور امریکی محکمۂ انصاف نے اس واقعہ پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||