بغداد میں دھماکہ، تین عراقی ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی دارالحکومت بغداد کے وسط میں آسٹریلوی فوجی کاررواں کے قریب سڑک کے کنارے نصب بم پھٹنے سے تین عراقی ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔ زخمی ہونے والوں میں دو آسٹریلوی فوجی بھی شامل ہیں۔ دھماکے کے سبب ایک فوجی گاڑی کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ امریکی اور عراقی حکام کے مطابق کرادا ضلع میں واقع گرین زون کے قریب ہونے والے اس دھماکے کا مقصد آسٹریلوی فوجی کاررواں کو نشانہ بنانا تھا۔ امریکی فوج نے علاقے کی ناکہ بندی کر دی ہے اور ہیلی کاپٹر پرواز کرتے نظر آ رہے ہیں۔ دریں اثناء عراق کے سکیورٹی اہلکاروں نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا ہے کہ جن مشتبہ شدت پسندوں نے پچاس عراقی رضاکاروں کو ہلاک کیا ہے انہیں سکیورٹی کے اندر سے ہی مخبری کی گئی تھیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اسے ہلاک ہونے والے پچاس رضاکاروں کی لاشیں اتوار کو ملی تھیں۔ ان فوجیوں کی لاشیں شمال مشرق میں ایران کی سرحد کے قریب ملی ہیں اور وہ منی بسوں میں جا رہے تھے۔ پولیس کے مطابق ان فوجیوں کو پہلے زمین پر لٹایا گیا اور پھر گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا۔ پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ لاشیں قطاروں میں رکھی ہوئی ملی ہیں۔ عراقی انتظامیہ کے مطابق ان رضاکاروں ابھی اپنی بنیادی تربیت ہی مکمل کی تھی اور اس کے بعد چھٹی لے کر گھروں کو جا رہے تھے۔ ابھی کل ہی سکیورٹی فورس کے بیس اہلکار دو خود کش بم حملوں ہلاک ہو گئے تھے۔ ادھر امریکی فوج نے کہا ہے کہ اس نے فلوجہ میں مشتبہ شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر حملہ کیا ہے اور ایک کمانڈ پوسٹ تباہ کر دی ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق پہلے حملے میں کم از کم پانچ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||