بغداد، رمادی میں دھماکے، دس ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی دارالحکومت بغداد میں سخت حفاظتی انتظامات والے علاقے گرین زون کے قریب دھماکے ہوئے ہیں اور رمادی میں ایک پولیس تربیتی مرکز پر ہونے والے کار بم دھماکے میں کم سے کم دس پولیس والے ہلاک اور پچاس سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ یہ دونوں دھماکے امریکی افواج کے اس اعلان کے چند گھنٹوں کے اندر ہی ہوئے ہیں جس میں کہا گیا تھا کہ ابو مصعب الزرقاوی سے تعلق رکھنے والے ایک سینیئر شدت پسند رہنما کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ کار بم دھماکہ رمادی میں امریکی اور عراقی فورسز کے ایک اڈے پر کیا گیا جہاں پولیس والوں کو تربیت دی جاتی تھی۔ بعض ذرائع نے کہا ہے کہ یہ حملہ اس وقت ہوا جب پولیس والوں کی تربیت جاری تھی۔ بغداد میں دھماکوں کی آوازیں گرین زون سے سنی گئیں جہاں امریکی فوج اور عراقی عبوری حکومت کے دفاتر ہیں۔ یہ علاقہ نہایت ہی محفوظ سمجھا جاتا ہے لیکن یہاں حالیہ دنوں میں دھماکے ہوتے رہے ہیں۔ فلوجہ میں آپریشن امریکی فوج نے اس شخص کا نام نہیں بتایا ہے لیکن اطلاعات ہیں کہ سنیچر کی صبح فلوجہ میں ایک فوجی کارروائی کے دوران اس کے ساتھ پانچ دوسرے لوگ بھی حراست میں لیے گئے۔ الرزقاوی کی تنظیم ’توحید اور جہاد‘ کو عراق میں ہونے والے دھماکوں کا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے۔ مغربی شہر فلوجہ میں، جہاں سے الزرقاوی کے سینیئر ساتھی کو گرفتار کیا گیا، گزشتہ کچھ ہفتوں سے امریکی فوجی آپریشن جاری ہے اور گزشتہ شب بھی امریکی طیاروں نے بمباری کی۔ خبررساں ایجنسی رائٹرز کا کہنا ہے کہ گزشتہ شب کی بمباری میں کم سے کم دو افراد ہلاک اور تین زخمی ہوگئے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اردنی شدت پسند الزرقاوی فلوجہ میں ہی ہیں اور مقامی رہنماؤں نے الزرقاوی کو حوالے کرنے کے عراق کی عبوری حکومت کے مطالبے کو مسترد کردیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||