BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 22 October, 2004, 14:59 GMT 19:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اکثر عراقی مذہبی جماعتوں کے ساتھ
عبدالعزیز حکیم
امریکی سروے کے مطابق عراقی عوام کی اکثریت شیعہ رہنما عبدالعزیز حکیم کے حق میں ہے
چند ماہ بعد ہونے والے عراقی عام انتخابات سے پہلے عراقی عوام کے رجحانات کیا ہیں؟ اور مزاحمت کاروں کی اصل طاقت کیا ہے؟ یہ دو سوال امریکہ میں نمایاں طور پر سامنے آۓ ہیں۔

عراق میں حال ہی میں کیے گئے راۓ عامہ کے ایک جائزہ سے پتہ چلا ہے کہ عراقی عوام کی ایک بڑی اکثریت انتخابات میں ووٹ ڈالنا چاہتی ہے لیکن اکثر لوگ موجودہ نگران حکومت کے بجائے مذہبی جماعتوں کے حق میں ہیں۔

رائے عامہ کا یہ جائزہ امریکی حکومت کے خرچ سے کرایا گیا تھا اور اسے اکتوبر کے آخر تک واشنگٹن میں قائم انٹرنیشنل ریپبلیکن انسٹی ٹیوٹ شائع کرے گا۔ تاہم واشنگٹن پوسٹ اور یو ایس اے ٹو ڈے نے اس کے نتائج شائع کیے ہیں۔

اس جائزہ میں دو ہزار عراقیوں سے ستمبر کے آخر میں اور اکتوبر کے شروع میں سوال پوچھے گئے۔ جن لوگوں سے سوال پوچھے گئے ان کی ایک بڑی اکثریت نے یعنی پچاسی فیصد لوگوں نے کہا کہ وہ جنوری کے انتخابات میں ووٹ ڈالنا چاہتے ہیں۔

ان جائزوں کے دوسرے نتائج ایسے ہیں جو بش انتظامیہ اور نگران عراقی حکومت کے لیے اچھے نہیں۔

لوگوں کی اکثریت نے کہا کہ وہ نگران حکومت کے وزیراعظم ایاد علاوی کے بجاۓ شیعہ جماعت کے قائد عبدالعزیز حکیم کے حق میں ووٹ ڈالیں گے۔ اس پارٹی کے ایران سے تعلقات بتائے جاتے ہیں۔ اس سروے سے اس خیال کی تصدیق ہوئی ہے کہ عراقی عوام ایاد علاوی جیسے سیکولر رہنماؤں کی مذہبی رہنماؤں پر زیادہ بھروسہ کرتے ہیں۔

اس سروے میں جن لوگوں سے سوال پوچھے گئے ان میں سے پینتالیس فیصد کا خیال تھا کہ عراق غلط سمت میں جارہا ہے۔ حتی کہ اس سروے سے یہ تاثر بھی غلط ثابت ہوا ہے کہ شمالی عراق کے کرد علاقے میں ، جہاں زیادہ تشدد نہیں ہوا ، سب کچھ صحیح چل رہا ہے۔ شمالی شہروں کرکوک اور موصل میں جن لوگوں سے سوال پوچھے گئے تھے ان میں سے تین چوتھائی لوگوں نے کہا کہ ملک غلط سمت میں جارہا ہے۔

سروے کے نتائج سے پتا چلتا ہے کہ جواب دینے والے عراقیوں میں سے ایک تہائی لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ عراق کے سلامتی کے مسائل امریکی فوج کی وجہ سے ہیں۔

ادھر عام انتخابات سے چند ماہ پہلے عراق میں امن امان کے حوالے سے واشنگٹن میں محکمہ دفاع اور انٹیلی جنس ایجنیساں اُن مزاحمت کاروں کی اصل طاقت کے بارے میں اپنے تخمینوں پر نظر ثانی کررہی ہیں جو فلوجہ اور بغداد کے علاقوں کے ارد گرد امریکی فوجوں سے برسر پیکار ہیں۔

نیویارک ٹائمز نے سینئر امریکی اہلکاروں کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ گزشتہ اندازوں کے برعکس عراق میں مزاحمت کاروں کی تعداد آٹھ سے بارہ ہزار کے قریب ہے۔

کچھ ہی عرصہ پہلے امریکہ وزیر دفاع ڈونلڈ رمز فیلڈ نے عراق کے مزاحمت کاروں کو مٹھی بھر ہٹ دھرم لوگ قرار دیا تھا اور صدر بش نے انھیں جنگی مجرموں کا ایک ٹولہ کہا تھا۔ امریکہ کی انٹیلی جنس ایجنیساں کہہ رہی تھیں کہ پکے مزاحمت کاروں کی تعداد دو ہزار کے قریب ہے۔

تاہم اب امریکہ میں یہ تسلیم کیا جارہا ہے کہ ماضی کے یہ اندازے درست نہیں تھے۔ سینئر امریکی دفاعی اہلکاروں نے کہا ہے کہ عراق کے پکے مزاحمت کاروں کی تعداد آٹھ ہزار سے بارہ ہزار کے درمیان ہے اور اگر ان کے سرگرم حامیوں کو بھی شامل کرلیا جاۓ تو ان کی تعداد تقریباً بیس ہزار ہوسکتی ہے۔

امریکی صحافی سیموئیل ہرش نے تازہ کتاب چین آف کمانڈ میں یہ نتیجہ نکالا ہے کہ عراق کی بغاوت میں سابق صدر صدام حسین کی بعث پارٹی کے درمیانے درجہ کے عہدوں کے اہلکار غالب ہیں اور ان کے ساتھ تقریباً ایک ہزار اسلام پسند ہیں۔ صحافی کا یہ بھی کہنا ہے کہ بعث پارٹی کے ان لوگوں کی رسائی ایک ارب ڈالر کی رقم تک ہے جو صدام حسین کی حکومت کے زوال سے پہلے ان کے حامیوں اور اتحادیوں نے باہر کے ملکوں کے بنکوں میں رکھوائی تھی۔

امریکہ کی مزاحمت کاروں کے بارے میں نئے تخمینوں کا اثر امریکی فوج کی کاروائیوں کے طریق کار پر بھی پڑے گا جس کی امریکی فوج عام انتخابات کے موقع پر منصوبہ بندی کررہی ہے کیونکہ کہا جاتا ہے کہ مزاحمت کار عام انتحابات کو درہم برہم کرنا چاہتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد