فلوجہ:چوبیس گھنٹے، تین حملے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی فوج نے چوبیس گھنٹوں میں عراقی شہر فلوجہ پر تیسرا حملہ کیا ہے۔ انہوں نے ایک عمارت پر بمباری کی جسے ان کے بقول عراق میں مزاحمت کار اسلحہ کے گودام کے طور پر استعمال کر رہے تھے۔ اطلاعات کے مطابق یہ حملہ اس وقت ہوا جب پندرہ کے قریب مشتبہ شدت پسند وہاں سے اسلحہ نکال رہے تھے۔ خیال ہے کہ ان میں سے زیادہ تر اس حملے میں ہلاک ہو گئے۔ ادھر سمارا میں لڑائی کے بعد شہر عمومی طور پر امریکی اور عراقی افواج کے کنٹرول میں ہے۔ امریکی اور عراقی افواج کا کہنا ہے کہ دو دنوں کی لڑائی میں ایک سو پچیس مزاحمت کار ہلاک اور اٹھاسی گرفتار کیے گئے ہیں۔ لیکن مقامی ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ کئی شہری بھی اس لڑائی کا شکار ہوئے۔ ان کارروائیوں کا مقصد عراق میں مزاحمت کاروں کا مختلف علاقوں پر کنٹرول ختم کرنا ہے۔ دریں اثناء ایران نے کہا ہے کہ وہ عراق کے انتخابات کے بارے میں اگلے ماہ مصر میں ہونے والی ایک بین الاقوامی کانفرنس میں شرک کے لیے تیار ہے۔ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان حامد رضا آصفی نے کہا کہ ایران کو امریکہ کی طرف سے بلائی گئی اس کانفرنس میں شرکت پر کوئی اعتراض نہیں۔ لیکن انہوں نے کہا کہ ایران کانفرنس کی تفصیلات اور شرکت کے طریقہ کار کے بارے میں جاننا چاہے گا۔ ترجمان نے کہا کہ ایران عراق میں امن امان کے قیام کے لیے کسی بھی تجویز کو قبول کرے گا۔ ایران اور امریکہ کے سفارتی تعلقات منقطع ہیں۔ نامہ نگاروں کے مطابق امریکہ عراق میں جنوری میں انتخابات سے قبل امن کے قیام کی کوششوں میں اس کے ہمسایہ ممالک کو شامل کرنا چاہتے ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||