عراقی حریت پسند ہیں: سابق یرغمالی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں گزشتہ ماہ اغوا ہونے والی اٹلی کی دو خواتین نے رہائی کے بعد کہا ہے کہ عراقی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں اور وہاں سے تمام غیر ملکی فوجوں کو نکل جانا چاہیے۔ سائمونا پاری اور سائمونا ٹوریٹا جن کی رہائی کے لیے پورا اٹلی متحد ہو گیا تھا اور گرجا گھروں میں ان کے لیے دعائیاں مانگی گئی تھیں، نے ان لوگوں کو مایوس کیا جو یہ سوچ رہے تھے کہ وہ واپس آ کر اپنی قید کی دکھ بھری کہانی رو رو کر سنائیں گی۔ اپنی رہائی کے پہلے دن سائمونا پاری اور سائمونا ٹوریٹا نے اٹلی کے وزیر اعظم سلویو برلسکونی کا شکریہ ادا کرنے کی بجائے ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اٹلی کے فوجیوں کو عراق سے واپس بلائیں۔ سائمونا پاری اور سائمونا ٹوریٹا نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ وہ عراق میں اپنا کام جاری رکھیں ۔انہوں نے عرب ملکوں ، عراقی مزاحمت کارروں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ان کی رہائی کے لیے کوشش کی۔ سائمونا پاری اور سائمونا ٹوریٹا نے کہا کہ دہشت گردی اور مزاحمت کاری میں فرق کو محسوس کیا جانا چاہیے ۔ اطالوی خواتین نے کہا عراقی مزاحمت کار آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں ۔ سائمونا پاری اور سائمونا ٹوریٹا نے کہا کہ اغوا کے دوران چاقو کئی بار ان کی گردن تک پہنچا اور وہ ہمیشہ اپنی زندگی کے بارے میں فکر مند رہیں۔ سائمونا ٹوریٹا نے کہا کہ عراق میں گوریلا جنگ جائز ہے لیکن وہ عراق میں عام شہریوں کے اغوا کے خلاف ہیں۔ سائمونا ٹوریٹا نے عراق کی عبوری حکومت کے سربراہ ایاد علاوی کو ’امریکی کٹھ پتلی ‘ قرار دیا۔ اٹلی کے وہ اخبار جو سائمونا پاری اور سائمونا ٹوریٹا کو اٹلی کی شان قرار دے رہے تھے نے ان پر تنقید شروع کر دی ہے اور ان سے کہا ہے کہ وہ اپنی رہائی پر ادا ہونے والی رقم حکومت کو لوٹانے کا بندوبست کریں۔ اطلاعات کے مطابق سائمونا پاری اور سائمونا ٹوریٹا جنہیں سات ستمبر کو عراق سے اغوا کیا گیا تھا کی رہائی کے لیے حکومت نے دس لاکھ پونڈ ادا کیے۔ اٹلی کی حکومت اس الزام کی تردید کرتی ہے ۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||