اطالویوں کا قتل مشتبہ خبر؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اٹلی کے حکام نے عراق میں یرغمال بنائے گئے دو اطالوی باشندوں کے قتل کیے جانے کی خبر پر شبہے کا اظہار کیا ہے۔ بغداد میں اطالوی سفارتخانے کے حکام نے کہا ہے کہ وہ اس بات کی تصدیق نہیں کر سکے کہ دو اطالوی خواتین سیمونا پاری اور سیمونا تریٹہ کو قتل کر دیا گیا ہے۔ ان دو اطالوی خواتین کی ہلاکت کی خبر ایک ویب سائٹ پر شائع کی گئی تھی۔ اٹلی کی حکومت کا کہنا ہے کہ ویب سائٹ قابلِ اعتبار نہیں ہے اور نہ ہی اس پر کوئی فوٹو یا وڈیو دکھائی گئی ہے۔ روم میں اٹلی کے دفتر خارجہ نے دونوں خواتین کے خاندان والوں سے رابطہ کر کے انہیں مبینہ ہلاکتوں کے دعووں کے بارے میں خبردار کیا ہے۔ عراق کی جہاد تنظیم نامی ایک گروہ نے ان خواتیں کے بارے میں حالیہ دعویٰ کیا ہے۔ توقع ہے کہ جنرل اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں خطاب کے دوران ان خواتین کی زبوں حالی کا ذکر خاص طور پر کیا جائے گا۔ ان دونوں خواتین کی عمریں انتیس برس بتائی گئی ہیں اور انہیں دو ہفتے قبل اغوا کر لیا گیا تھا۔ یہ خواتین ’اے برج تو بغداد‘ نامی ایجنسی کی طرف سے عراق میں بچوں کی مدد کر رہی تھیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||