اٹلی: پناہ گزینوں کا بے دخلی پر احتجاج | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اٹلی نے تقریباً ان تمام پناہ گزینوں کو بے دخل کر دیا ہے جو گزشتہ ہفتے پناہ گزینوں کےلیے ایک جرمن گروپ کی طرف سے فراہم کیے گئے بحری جہاز کے ذریعے آئے تھے۔ احتجاج کا واقعہ اس وقت رونما ہوا جب ستائیس پناہ گزینوں کو لے کر ایک جہاز منگل کی صبح روم کے ہوائی اڈے سے گھانا روانہ ہونے والا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ سیاسی پناہ کی درخواست کرنے والے چار افراد کو جب ’گڑ بڑ‘ پیدا کر رہے تھے جہاز سے اتار لیا گیا۔ حکام کے مطابق ان کی وجہ سے پرواز میں دو گھنٹے کی تاخیر ہوئی۔ اٹلی کے وزیرِ داخلہ گیو سیّپی پیسانو کا کہنا کہ ان میں سے کوئی بھی درخواست گزار جائز طور پر پناہ گزین نہیں تھا۔ گیو سی پی پیسانو کا کہنا ہے کہ کل سینتیس افراد نے سیاسی پناہ کی درخواست کی تھی اور دعویٰ کیا تھا کہ ان کا تعلق سوڈان کے گڑ بڑ کے شکار علاقے دارفر سے ہے لیکن ان میں سے پانچ کا تعلق نائجیریا سے اور باقی کا گھانا سے تھا۔ نائجیریائی پہلے ہی لاگوس کے لیے روانہ ہو چکے ہیں۔ سیاسی پناہ کے لیے مدد دینے والے گروہوں کے ارکان روم کے فیومیسینو نامی ہوئی اڈے پر دیکھ بھال کی نگرانی کر رہے ہیں۔ وزارتِ داخلہ کے حکام نے اے ایف پی کو بتای ہے کہ گڑ بڑ کے باعث جہاز سے اتارے جانے والی چاروں افراد سے سے پولیس تحقیق کر رہی ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار ڈیوڈ ویلی کا کہنا ہے کہ اٹلی نے اگرچہ پناہ دینے کے قوانین دو سال قبل سخت کیے ہیں تاہم اب بھی سیاسی پناہ دی جا رہی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||