تارکین وطن کے بھرے جہاز کی آمد | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بحیرہ روم میں مختلف ممالک کے تارکین وطن سے بھری ایک کشتی اطالوی بحریہ کے روکے جانے پر لامپیڈوسا نامی جزیرے پر اتری ہے۔ اس کشتی میں دو سو چالیس افراد سوار تھے۔ جزیرے پر پہنچنے والے افراد میں سے زیادہ تر اپنا تعلق فلسطین سے بتاتے ہیں۔ باقی عراقی اور بنگلہ دیشی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق ان میں پاکستانی بھی شامل ہیں۔ گزشتہ دو ہفتوں میں چار سو افراد اسی طرح اس جزیرے پر پہنچ ہیں۔ بحیرہ روم میں یہ اطالوی جزیرہ اٹلی کے مقابلے میں شمالی افریقہ کے ملک تیونس کے ساحل سے زیادہ قریب ہے۔ غیر قانونی طور پر یورپ جانے کے خواہشمند بہت سے لوگ کئی بار اسی جزیرے پر پہنچ جاتے ہیں۔ اطالوی وزیر اعظم سِلویو برلِسکونی غیر قانونی طور ملک میں لوگوں کی آمد ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے گزشتہ بدھ کو لیبیا کے دورے کے دوران کرنل معمر قذافی سے بھی اس مسئلے پر بات کی تھی۔ اس سال مختلف ممالک سے سینکڑوں افراد نے، جن میں سے زیادہ تر کا تعلق افریقہ اور ایشیا سے تھا، سمندر کے راستے یورپ داخل ہونے کی کوشش کی ہے۔ ان میں سے لوگوں کی نامعلوم تعداد یا تو ڈوب گئی یا کشتیوں پر ہی دوران سفر ہلاک ہو گئی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||