بش کا دورۂ اٹلی، مظاہروں کا خدشہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اٹلی نے خبردار کیا ہے کہ امریکی صدر بش جب اگلے ہفتہ روم کا دورہ کریں گے تو ان کو ’شدید خطرات‘ کا سامنا ہو سکتا ہے۔ خدشہ ہے کہ اٹلی کے یوم آزادی 2 جون کو ہزاروں مظاہرین جمع ہوں گے، جبکہ صدر بش 4 اور 5 جون کو روم میں ہوں گے اس موقع پر بھی بڑی تعداد میں مظاہرین کے جمع ہونے کا خدشہ ہے۔ اٹلی کے وزیرداخلہ نے اپنی پارٹی کی کانفرنس میں بتایا ہے کہ جن خطرات کا سامنا ہے ان پر انہیں تشویش ضرور ہے لیکن خوفزدہ نہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ وزیر داخلہ کا اشارہ مظاہرین کی جانب سے ممکنہ طور پر پیدا کئے جانے والے امن و امان کے مسئلے کی طرف تھا نہ کہ کسی دہشت گرد حملے کی جانب۔ حکام کو خدشہ ہے کہ تین برس قبل G -8 ممالک کے سوئٹزرلینڈ کے شہر جینووا میں ہونے والے اجلاس کے موقع پر مظاہرین نے جو ہنگامہ آرائی کی تھی اسی نوعیت کی ہنگامہ آرائی دوبارہ ہو سکتی ہے۔ خیال کیا جارہا ہے کہ صدر بش کے دورے کے موقع پر عراق میں جنگ کے مخالفین خصوصی طور پر اپنے غصے کا اظہار کریں گے۔ اٹلی نے عراق میں جنگ کی بھرپور مدد کی ہے اور اس کے کئی فوجی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ روم کی مقامی حکومت کے صدر نے بھی خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بڑے پیمانے پر گڑبڑ کا اندیشہ ہے۔ انہوں نے ایک انٹرویو میں کہا کہ کئی ایسے غیر ذمہ دار لوگ ہیں جو آگ سے کھیل رہے ہیں۔ ایک ممتاز کارکن نے کہا ہے کہ لوگوں میں جو غصہ ہے وہ اس کا اظہار ضرور کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بش جیسے مجرم کو اس قدر خوش آمدید کہا جائے گا تو پھر ردعمل فطری ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||