فلوجہ پر بمباری، سمارا میں کارروائی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے شہر سمارا میں امریکی اور عراقی فوج کا کہنا ہے کہ شہر پر کنٹرول حاصل کرنے کے ان کے فوجی آپریشن کے خلاف مزاحمت ہوئی ہے۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ مزاحمت کاروں نے سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کردی ہیں اور فوجیوں کو ایک مقام پر ایک ممکنہ کار بم کو ناکارہ بنانا پڑا۔ ہسپتال کے ذرائع کے مطابق گزشتہ شب امریکی کارروائی کے دوران کم سے پانچ افراد ہلاک اور ایک درجن زخمی ہوئے ہیں۔ سنیچر کے روز شہر میں حالات قدرے معمول پر رہے اور مقامی لوگوں کو ملبے کے اندر لاشوں کی تلاش کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ تاہم سمارا شہر کا مرکز سنسان ہے اور کوئی وہاں جانے کی کوشش نہیں کرتا۔ مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ انہیں سڑکوں پر موجود لاشیں اٹھانے میں دشواریوں کا سامنا رہا ہے کیونکہ آس پاس کے چھتوں پر امریکی فوج کے نشانچی تعینات ہیں۔ امریکی فوج اور عراق کی عبوری حکومت کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ جنوری کے مجوزہ انتخابات سے قبل عراقی شہروں سے وہ مزاحمت کاروں کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ امریکی فوج کے اہلکار ہلاک ہونے والے عراقیوں کی تعداد کے بارے میں کچھ کہنے سے گریز کررہے ہیں لیکن خیال کیا جاتا ہے کہ اسی افراد کو سمارہ پر کارروائی کے دوران گرفتار کیا گیا ہے۔ سمارا پر کارروائی کے آغاز میں امریکی فوج نے سو سے زائد مزاحمت کاروں کی ہلاکتوں کا دعویٰ کیا تھا لیکن ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ اس آپریشن کے دوران ایک امریکی فوجی بھی ہلاک ہوگیا۔ سمارا میں پانی اور بجلی کی فراہمی روک دی گئی ہے اور ہسپتال میں آکسیجن اور مرہم پٹی جیسی اشیاء کی کمی ہے۔ امریکی اور عراقی فورسز کا کہنا ہے کہ سمارا کے بیشتر علاقے ان کے کنٹرول میں ہیں۔ پانچ ہزار فوجیوں کی مدد سے امریکی فوج نے سمارہ میں جمعہ کے روز کارروائی شروع کی تھی۔ فلوجہ پر فضائی بمباری امریکی فوج نے کہا کہ جس مقام کو نشانہ بنایا گیا وہاں کوئی شہری نہیں تھے۔ لیکن اطلاعات کے مطابق دو گھر تباہ ہوگئے اور ہلاک ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ بغداد میں دھماکہ انڈونیشیائی یرغمالی انڈونیشیائی صدر نے اپنی اپیل میں کہا کہ ان دونوں خواتین کی رہائی ماہ رمضان کی آمد پر موزوں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ یہ خواتین اپنے گھروالوں کے لئے روزی کی تلاش میں عراق گئی تھیں۔ برطانوی یرغمالی پال بِگلی کا کہنا ہے کہ پولیس اہلکاروں نے ان سے پوچھ گچھ کی اور یہ جاننا چاہا کہ عراقی شدت پسندوں سے ان کے کوئی رابطے تو نہیں۔ پال بِگلی نے کہا کہ ان کے بھائی کے اغواکاروں سے ان کا کوئی رابطہ نہیں ہے۔ پال بِگلی نے کہا کہ اغواکاروں سے ان کا رابطہ صرف الـجزیرہ ٹیلی ویژن کے ذریعے ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||