BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 02 October, 2004, 12:26 GMT 17:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فلوجہ پر بمباری، سمارا میں کارروائی
سمارہ میں دوسرے دن بھی فوجی کارروائی جاری ہے
سمارہ میں دوسرے دن بھی فوجی کارروائی جاری ہے
عراق کے شہر سمارا میں امریکی اور عراقی فوج کا کہنا ہے کہ شہر پر کنٹرول حاصل کرنے کے ان کے فوجی آپریشن کے خلاف مزاحمت ہوئی ہے۔

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ مزاحمت کاروں نے سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کردی ہیں اور فوجیوں کو ایک مقام پر ایک ممکنہ کار بم کو ناکارہ بنانا پڑا۔

ہسپتال کے ذرائع کے مطابق گزشتہ شب امریکی کارروائی کے دوران کم سے پانچ افراد ہلاک اور ایک درجن زخمی ہوئے ہیں۔ سنیچر کے روز شہر میں حالات قدرے معمول پر رہے اور مقامی لوگوں کو ملبے کے اندر لاشوں کی تلاش کرتے ہوئے دیکھا گیا۔

تاہم سمارا شہر کا مرکز سنسان ہے اور کوئی وہاں جانے کی کوشش نہیں کرتا۔ مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ انہیں سڑکوں پر موجود لاشیں اٹھانے میں دشواریوں کا سامنا رہا ہے کیونکہ آس پاس کے چھتوں پر امریکی فوج کے نشانچی تعینات ہیں۔

امریکی فوج اور عراق کی عبوری حکومت کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ جنوری کے مجوزہ انتخابات سے قبل عراقی شہروں سے وہ مزاحمت کاروں کا خاتمہ چاہتے ہیں۔

امریکی فوج کے اہلکار ہلاک ہونے والے عراقیوں کی تعداد کے بارے میں کچھ کہنے سے گریز کررہے ہیں لیکن خیال کیا جاتا ہے کہ اسی افراد کو سمارہ پر کارروائی کے دوران گرفتار کیا گیا ہے۔

سمارا پر کارروائی کے آغاز میں امریکی فوج نے سو سے زائد مزاحمت کاروں کی ہلاکتوں کا دعویٰ کیا تھا لیکن ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ اس آپریشن کے دوران ایک امریکی فوجی بھی ہلاک ہوگیا۔

سمارا میں پانی اور بجلی کی فراہمی روک دی گئی ہے اور ہسپتال میں آکسیجن اور مرہم پٹی جیسی اشیاء کی کمی ہے۔ امریکی اور عراقی فورسز کا کہنا ہے کہ سمارا کے بیشتر علاقے ان کے کنٹرول میں ہیں۔ پانچ ہزار فوجیوں کی مدد سے امریکی فوج نے سمارہ میں جمعہ کے روز کارروائی شروع کی تھی۔

فلوجہ پر فضائی بمباری
دریں اثناء عراق کے شہر فلوجہ پر امریکی فوج نے بمباری کی ہے جس کے نتیجے میں سات افراد ہلاک اور تیرہ زخمی ہوگئے ہیں۔ امریکی فوج نے کہا کہ اس نے اردنی شدت پسند ابو مصعب الزرقاوی سے تعلق رکھنے والے مزاحمت کاروں کے ٹھکانے کو نشانہ بنایا۔

امریکی فوج نے کہا کہ جس مقام کو نشانہ بنایا گیا وہاں کوئی شہری نہیں تھے۔ لیکن اطلاعات کے مطابق دو گھر تباہ ہوگئے اور ہلاک ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

بغداد میں دھماکہ
گزشتہ شب دارالحکومت بغداد میں ہونے والے ایک چھوٹے دھماکے میں ایک امریکی فوجی ہلاک ہوگیا۔

انڈونیشیائی یرغمالی
اس دوران انڈونیشیا کی صدر سکارنوپتری نے الجزیرہ ٹیلی ویژن پر ایک اپیل میں ان دو انڈونیشیائی خواتین کا رہائی کی درخواست کی ہے جنہیں عراق میں یرغمال بنالیا گیا ہے۔

انڈونیشیائی صدر نے اپنی اپیل میں کہا کہ ان دونوں خواتین کی رہائی ماہ رمضان کی آمد پر موزوں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ یہ خواتین اپنے گھروالوں کے لئے روزی کی تلاش میں عراق گئی تھیں۔

برطانوی یرغمالی
عراق میں برطانوی یرغمالی کین بِگلی کے بھائی پال بگلی نے کہا کہ نیدرلینڈ کے شہر ایمسٹرڈم میں مقامی پولیس نے ان کے گھر پر چھاپہ مارا ہے اور ان کے کمپیوٹر کی تلاش کی ہے۔

پال بِگلی کا کہنا ہے کہ پولیس اہلکاروں نے ان سے پوچھ گچھ کی اور یہ جاننا چاہا کہ عراقی شدت پسندوں سے ان کے کوئی رابطے تو نہیں۔ پال بِگلی نے کہا کہ ان کے بھائی کے اغواکاروں سے ان کا کوئی رابطہ نہیں ہے۔ پال بِگلی نے کہا کہ اغواکاروں سے ان کا رابطہ صرف الـجزیرہ ٹیلی ویژن کے ذریعے ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد