امریکی فوج کا سمارا شہر پر حملہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی فوج نےعراقی شہر سمارا پر ایک بڑا حملہ کیا ہے جس کے بارے میں امریکی فوج کا کہنا ہے کہ یہ مزاحمت کارروں کا مرکزہے۔ امریکی فوج کے ترجمان کے مطابق فوج نے عراقی فوج کے ہمراہ سمارا پر حملہ کیا اور شہر کی اہم عمارتوں پر قبضہ کر لیا ہے۔ امریکی فوج کے مطابق سمارا میں اس کا مقابلہ دو ہزار کے قریب مزاحمت کارروں سے ہے جو عراق میں تشدد کی کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ جمعرات کے روز بغداد میں یکے بعد دیگرے ہونے والی تین مختلف بم دھماکوں میں مزاحمت کاروں نے امریکی فوجی قافلے کو نشانہ بنایا ہے جس کے نتیجے میں درجنوں بچوں سمیت 41 افراد ہلاک اور 130 سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں اکثر بچے ہیں جو بموں کے ٹکڑے یا دھماکہ خیز مواد کی زد میں آنے کے باعث مارے گئے۔ اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والے بچوں کی تعداد 34 تک پہنچ گئی ہے۔ یہ دھماکے اس وقت ہوئے جب بغداد میں پانی کے ایک پلانٹ کا افتتاح ہو رہا تھا اور لوگ جن میں زیادہ تر بچے تھے اس تقریب کو دیکھنے کے لیے جمع تھے۔ جمعرات کو ہونے والے دھماکے عراق میں تشدد کی لہر کا تازہ ترین حصہ ہیں۔ ان دھماکوں سے محض چند گھنٹے پہلے بغداد کے مغرب میں ایک خود کش حملے میں دو عراقی پولیس اہلکار اور ایک امریکی فوجی ہلاک ہوگئے تھے جبکہ ایک امریکی فوجی اس وقت مارا گیا جب امریکی فوجی اڈے پر راکٹ داغا گیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||