بصرہ: دو برطانوی فوجی ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ ملک کے جنوبی شہر بصرہ میں گھات لگا کر کیے گئے حملے کے نتیجے میں دو برطانوی فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔ راکٹ سے چلنے والے گرینیڈ کی زد میں آنے والی بکتر بند گاڑی کی مدد کو پہنچنے والے فوجیوں پر بھی فائرنگ کی گئی۔ یہ واقعہ مقامی وقت کے مطابق صبح سوا نو بجے پیش آیا۔ دونوں برطانوی فوجیوں نے شائبہ میں واقع برٹش ملٹری ہسپتال میں دم توڑا۔ عراق میں جنگ بندی کے باضابطہ اعلان کے بعد ہونے والی جھڑپوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد اب چوبیس ہو گئی ہے جبکہ اپنی ہی فوج کی غلطی اور ٹریفک حادثات میں چوالیس برطانوی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔ ادھر فلوجہ کے مرکزی ہسپتال نے کہا ہے کہ شہر کی عمارتوں پر امریکی طیاروں کی بمباری کے نتیجے میں تین افراد ہلاک اور چھ زخمی ہوئے ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ فلوجہ کی یہ عمارتیں اردن نژاد شدت پسند ابو مصعب الزرقاوی کے جنگجوؤں کے زیر استعمال تھیں۔ امریکی فوج کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ فضائی حملے کا نشانہ بنائے گئے شدت پسند دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑیوں کے ذریعے خودکش حملے کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ امریکی فوج گزشتہ کئی ہفتوں سے فلوجہ پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے جس کے نتیجے میں ڈاکٹروں کے مطابق متعدد شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ ادھر امریکی فوج نے عراق کے شمالی شہر کرکک میں ایک شدت پسند گروہ کے رہنما کو گرفتار کیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق شدت پسند گروہ پر اس تنظیم سے تعلق کا شبہ ہے جو کرکک میں قتل اور اغواء کے متعدد واقعات میں ملوث ہے۔ اس گروہ کےگرفتار کیے گئے لیڈر کا نام حسین سلمان محمد الجبوری ہے جو ایک سنی گروہ انصار السنہ سے منسلک سیل چلا رہے تھے۔ انصار السنہ نے اگست میں بارہ نیپالی یرغمالیوں کے قتل اور اس ماہ کے اوائل میں تین کرد عراقیوں کے سر قلم کرنےکی ذمہ داری قبول کی تھی۔ امریکی حکام کی طرف سے دیئے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ الجبوری کو پیر کی سہ پہر مارے گئے ایک چھاپے میں پکڑنے کے بعد پوچھ گچھ کے لیے حراست میں رکھا گیا ہے۔ اس کے علاوہ امریکی ٹینک اور طیارے بغداد کے جنوبی علاقے صدر سٹی پر بھی دکھائی دیئے ہیں البتہ کسی کے ہلاک ہونے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||