فلوجہ پر مزید حملے‘ چار ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی فوجیوں نے ایک بار پھر فلوجہ پر حملے شروع کر دیے ہیں۔ فلوجہ عراق کے ان شہروں میں سے ایک ہے جہاں عراق پر قابض غیر ملکی فوجوں اور ان کی قائم کردہ حکومت کے خلاف مزاحمت ہے۔ رات کو امریکی طیاروں نے فلوجہ پر میزائیل داغے جس کے بعد شہر کے صنعتی علاقے کو گولہ باری کا نشانہ بنایا گیا۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ کم از کم چار افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ اس کے علاوے کہا جاتا ہے کہ ایک امریکی فوجی فلوجہ کے قریبی شہر سمارہ میں اس وقت ہلاک ہو گیا جو وہ ایک گشتی پارٹی کے ساتھ ایک کار کے قریب سے گزر رہا تھا جو دھماکے سے پھٹ گئی۔ اس دھماکے میں بتایا جاتا ہے کہ کئی امریکی فوجی زخمی بھی ہوئے ہیں۔ گزشتہ روز بھی امریکی فوج نے کہا تھا کہ اس کے جنگی طیاروں نے جمعرات اور جمعہ کی درمیان شب فلوجہ اور رمادی میں مختلف کارروائیوں میں ساٹھ مزاحمت کاروں کو ہلاک کر دیا ہے۔ امریکی فوج کے مطابق مرنے والوں میں اکثر غیر ملکی یعنی باہر سے عراق میں آ کرنے لڑنے والے مزاحمت کار تھے۔ فوج کا دعویٰ ہے کہ یہ حملے ان مختلف عمارتوں پر کیے گئے جنہیں شدت پسند ابومصیعب الزرقاوی کے ساتھی استعمال کر رہے تھے۔ تاہم فلوجہ جنرل ہسپتال کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ وہاں چودہ زخمیوں کا علاج ہو رہا ہے جن میں اکثر عورتیں اور بچے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ طیاروں کی بمباری سے عام لوگ بھی زخمی ہوئے تاہم اس بارے میں اطلاعات مکمل نہیں ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||