BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 01 October, 2004, 07:46 GMT 12:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایک سو نو مزاحمت کار ہلاک
عراقی میں امریکی فوج
عراقی شہر سمارا پر امریکی فوج نے بڑا حملہ کیا ہے
امریکی فوج نے بغداد کے شمال میں واقع عراقی شہر سمارا پر ایک بڑا حملہ کیا ہے جس کے بارے میں امریکی فوج کا کہنا ہے کہ یہ مزاحمت کارروں کا مرکزہے۔

امریکی افواج، ایک ہزار عراقی فوجیوں کے ہمراہ علاقے کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے لڑ رہی ہیں۔

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے تقریباً ایک سو نو عراقی مزاحمت کاروں کو ہلاک کردیا ہے۔ کئی شہری ہلاکتوں کی اطلاع بھی ہے۔

سمارا کے مقامی ہسپتال کا کہنا ہے کہ اتنی تعداد میں متاثرین لائے جارہے ہیں کہ اس کے پاس طبی سازو سامان کی کمی پیدا ہوگئی ہے۔ ہسپتال کے حکام کا کہنا ہے کہ ان کے پاس اب تک اسی ہلاک شدگان لائے گئے ہیں جبکہ سو سے زیادہ زخمی ہیں۔

ایک عراقی وزیر کا کہنا ہے کہ سینتیس مزاحمت کاروں کو فوجی کارروائی کے دوران گرفتار کیا جاچکا ہے۔

وزارت داخلہ کے ترجمان کے مطابق امریکی اور عراقی فوج کے ہاتھوں اسی فیصد علاقے کا کنٹرول آچکا ہے۔

علاقے میں پانی اور بجلی کے رابطے منقطع ہوچکے ہیں۔

اب تک صرف ایک امریکی فوجی کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔

امریکی فوج کے ترجمان کے مطابق اس نے عراقی فوج کے ہمراہ سمارا پر حملہ کیا اور شہر کی اہم عمارتوں پر قبضہ کر لیا ہے۔

ہسپتال کے ذرائع کے مطابق اس حملے میں ابھی تک بیس لوگوں کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔

امریکی فوج کے مطابق سمارا میں اس کا مقابلہ دو ہزار کے قریب مزاحمت کاروں سے ہے جو عراق میں تشدد کی کارروائیوں میں ملوث ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ انتخابات میں ابھی چار مہینے سے کم رہ گئے ہیں اس لیے عراقی حکومت کی کوشش ہے کہ مزاحمت کاروں کے قبضے سے ان کے کنٹرول والے علاقے واپس لے لیے جائیں۔

جمعرات کے روز بغداد میں یکے بعد دیگرے ہونے والی تین مختلف بم دھماکوں میں مزاحمت کاروں نے امریکی فوجی قافلے کو نشانہ بنایا ہے جس کے نتیجے میں درجنوں بچوں سمیت 41 افراد ہلاک اور 130 سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں۔

ہلاک ہونے والوں میں اکثر بچے ہیں جو بموں کے ٹکڑے یا دھماکہ خیز مواد کی زد میں آنے کے باعث مارے گئے۔ اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والے بچوں کی تعداد 34 تک پہنچ گئی ہے۔

یہ دھماکے اس وقت ہوئے جب بغداد میں پانی کے ایک پلانٹ کا افتتاح ہو رہا تھا اور لوگ جن میں زیادہ تر بچے تھے اس تقریب کو دیکھنے کے لیے جمع تھے۔

جمعرات کو ہونے والے دھماکے عراق میں تشدد کی لہر کا تازہ ترین حصہ ہیں۔

ان دھماکوں سے محض چند گھنٹے پہلے بغداد کے مغرب میں ایک خود کش حملے میں دو عراقی پولیس اہلکار اور ایک امریکی فوجی ہلاک ہوگئے تھے جبکہ ایک امریکی فوجی اس وقت مارا گیا جب امریکی فوجی اڈے پر راکٹ داغا گیا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد