عراق سے پولینڈ کی خاتوں کا اغواء | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں مبینہ شدت پسندوں نے ایک پولش خاتون کو مغوی بنا لیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ مغوی کی رہائی کے لیے پولش افواج عراق سے چلی جائیں۔ اغوا کاروں نے اغوا کی ایک ویڈیو ٹیپ جاری کے ہے جسے الجزیرہ ٹیلی ویژن نیٹ ورک نے دکھایا ہے ۔ اغوا کاروں نے اپنی تنظیم کا نام ’ابو بکر الصدیق لصلاویہ بریگیڈ‘ بتایا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے جس خاتون کو اغوا کیا ہے وہ امریکیوں کے لیے کام کرتی تھی۔ دریں اثنا پولینڈ کی وزارتِ دفاع کے حکام نے یے بیان جاری کیا ہے کہ اس خاتون کا عراق میں پولینڈ کے فوجی یونٹوں سے کوئی تعلق نہیں۔ پولینڈ کے وزیر دفاع جیری سمازنسکی نے کہا ہے کہ ’پولینڈ کسی بھی قیمت پر اغوا کاروں کا مطالبہ تسلیم نہیں کرے گا‘۔ انہوں نے ایک پولش ٹی وی چینل کو بتایا ہے کہ ’اغوا کی کسی اطلاع کی تصدیق نہیں کی جاسکتی اور نہ ہی کوئی پولش سپاہی لا پتہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ عراق میں اس وقت پولینڈ کے دو ہزار پانچ سو فوجی ہیں۔ تاہم عراقی وزارتِ داخلہ کے ایک ترجمان عبدالرحمان نے کہا ہے کہ مذکورہ خاتون ایک طویل عرصے سے عراق میں رہ رہی ہے اور عراقی شہریت رکھتی ہے اور اسے بغداد میں بدھ کی رات اس کے گھر سے اغوا کیا گیا ہے۔ وزارتِ داخلہ کے ترجمان نے بھی مغوی خاتون کا نام نہیں بتایا اور ٹیپ پر سنائی دینے والی اس کی آواز نا قابلِ فہم ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||