BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 19 October, 2004, 12:31 GMT 17:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
الزرقاوی، اسامہ، ایک جان دو قالب؟

الزرقاوی، اسامہ، حریف یا حلیف
الزرقاوی، اسامہ، حریف یا حلیف
سترہ اکتوبر کو ایک اسلامی ویب سائٹ پر شائع کردہ بیان میں ابو مصعب الزرقاوی اور ان کے جنگجوؤں کی جانب سے اسامہ بن لادن کے ساتھ یکجہتی و اتحاد کا عہد کیا گیا ہے۔

کہا جا رہا ہے کہ یہ بیان الزرقاوی کی تنظیم توحید والجہاد کی طرف سے جاری کیا گیا ہے۔

لیکن اس کا کیا ثبوت ہے کہ الزرقاوی کا اسامہ سے کوئی تعلق ہے اور وہ عراق میں جاری مزاحمت میں مرکزی اہمیت کے حامل ہیں؟

ویب سائٹ پر شائع کردہ بیان ابھی تک مستند قرار نہیں دیا جا سکا اور ویب سائٹ پر بیانات جاری کرنے والوں کی تصدیق بھی ناممکن ہوتی ہے۔

تاہم بیان میں کسی قسم کے اتحاد کی طرف اشارہ الزرقاوی اور اسامہ کے تعلق کی متنازعہ کہانی کو ایک نیا موڑ دیتا ہے۔

بعض حلقے اسامہ اور الزرقاوی کے تعلق سے متفق ہیں لیکن عام لوگوں کا خیال یہی ہے کہ الزرقاوی نے اسامہ کے متوازی اپنا ایک علیحدہ نیٹ ورک تشکیل دے رکھا ہے جو ایک طرح سے القاعدہ کے مقابلے میں بھی ہے۔

جرمنی میں ایک مقدمہ کی سماعت کے دوران ایک گواہ نے کہا تھا کہ الزرقاوی نے اپنے حامیوں کو القاعدہ سے تعاون نہ کرنے کا حکم دیا تھا۔

ابو مصعب الزرقاوی
ابو مصعب الزرقاوی

البتہ بعض حلقے اب یہ بھی کہنے لگے ہیں کہ اسامہ کی طویل غیر حاضری کے سبب الزرقاوی عالمی جہادی موومنٹ کے نئے قائد کی حیثیت اختیار کر سکتے ہیں۔

اس صورت حال میں اسامہ سے یکجہتی اور وفاداری کا پیمان ایک دلچسپ پیش رفت دکھائی دیتی ہے۔

تاہم الزرقاوی اور اسامہ کے تعلق کی تفصیل کا پتا چلانا خاصا دشوار کام ہے۔

بش انتظامیہ اسامہ اور الزرقاوی کے تعلق کا دعویٰ کرتی آئی ہے لیکن وہ یہ بات پوری طرح ثابت کرنے میں کامیاب نہیں ہو پائی۔

ابو مصعب الزرقاوی کو عراق جنگ سے قبل اس وقت شہرت حاصل ہوئی جب کولن پاول نے سکیورٹی کونسل میں خطاب کے دوران الزرقاوی کی عراق میں موجودگی کو صدام حسین اور القاعدہ کے تعلق کے ثبوت سے تعبیر کیا۔

تاہم الزرقاوی کے ایک جانب القاعدہ اور دوسری طرف صدام حسین سے تعلق کو ٹھوس ثبوت کی بنیاد پر ثابت کرنا ممکن نہ تھا۔

سترہ اکتوبر کو ویب سائٹ پر جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ القاعدہ اور الزرقاوی کے درمیان آٹھ ماہ سے بات چیت جاری ہے۔

فلوجہ
فلوجہ میں کشیدگی بدستور جاری

امریکی حکام نے جنوری دو ہزار چار میں ایک بیان میں کہا تھا کہ انہیں الزرقاوی کی جانب سے القاعدہ کے نام دستاویز حاصل ہوئی ہیں جن میں عراقی شیعہ اور سنی مسلمانوں کے درمیان فرقہ وارانہ لڑائی کو ہوا دینے کے لیے مدد طلب کی گئی تھی۔

بعض لوگوں کا سوال ہے کہ کیا الزرقاوی حقیقتاً عراق میں جاری مزاحمتی کارروائیوں کا منبہ ہیں؟

یقیناً امریکہ کے لیے یہ زیادہ فائدہ مند ہے کہ وہ ان مزاحمتی کارروائیوں کو کسی کی ذات سے وابستہ کر کے غیر ملکی جنگجوؤں کے کردار کو ابھارے کیونکہ ایسا کرنے سے القاعدہ سے تعلق کی تصدیق ہوتی ہے اور امریکی قبضے کے خلاف قومی جذبات کی بنا پر کارروائیوں کا امکان پسِ پردہ ہو جاتا ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر عراق میں جاری مزاحمتی کارروائیوں کے پیچھے الزرقاوی کا ہاتھ ہے تو بھی الزرقاوی اور ان کے حامیوں کے لیے مقامی آبادی کی مدد کے بغیر سرگرمیاں جاری رکھنا ناممکن ہو گا۔

عراق میں جاری مزاحمتی کارروائیاں غیر ملکی اسلامی جنگجوؤں اور انتقام کی آگ سے بھرے مقامی باشندوں کے اشتراک کا نتیجہ ہیں۔

امریکہ اور عراق کی عبوری حکومت کی نظر میں فلوجہ کے باشندے غیر ملکی جنگجوؤں کی کارروائیوں پر سخت برہم ہیں اور یہ مقامی سطح پر الزرقاوی اور ان کے جنگجوؤں کی حمایت میں کمی کا آغاز ہو سکتا ہے۔

تاہم بعض کی رائے میں فلوجہ پر حملہ مختلف دھڑوں کو دوبارہ ایک دوسرے کے قریب لانے کا باعث بھی بن سکتا ہے۔

فلوجہ پر حملے کا امکان الزرقاوی کی جانب سے اسامہ کو دیئے گئے پیغام کی وجہ ہو سکتا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد