اردن پر کیمیائی حملوں کی تردید | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک نئے صوتی پیغام میں اس بات کی تردید کی گئی ہے کہ القاعدہ اردن پر کیمیائی حملے کی منصوبہ بندی کر رہی تھی۔ تاہم اس پیغام میں جو ابو مصعب الزرقاوی کی آواز میں بتایا جاتا ہے یہ کہا گیا ہے کہ اردنی انٹیلی جنس کے دفاتر پر حملے کے لیے سوچا گیا تھا۔ انٹرنیٹ پر اور عربی ٹیلیویژن سے جاری کی جانے والی یہ صوتی ٹیپ اردن کے اس اعلان کے چار روز بعد سامنے آئی ہے کہ عمان پر ایک کیمیائی حملے کے منصوبے کو قبل از وقت پکڑ لیا گیا ہے۔ اردن میں حکام کا کہنا تھا کہ انہوں نے دھماکہ خیز مواد اور اسلحہ سے بھری ہوئی کاریں قبضے میں لی ہیں اور چند افراد کو گرفتار کیا ہے۔ جب کہ اُردنی ٹیلی ویژن کا کہنا تھا کہ کہ ملک پر ایک ممکنہ دہشت گرد حملہ ٹل گیا ہے۔ اس بیان میں زیادہ تفصیلات نہیں بتائی گئی تھیں یہ خبریں مل رہی تھیں کہ اردن میں حکام ایک ہفتے سے کار بموں کی تلاش کر رہے تھے اور اس کار بم کی تلاش در اصل اس ماہ کے اوائل میں چند افراد کی گرفتاری کے بعد شروع کی گئی تھی جن پر القاعدہ کے رکن ہونے کا شبہ تھا۔ تاہم اب پیغام یہ کہتا ہے کہ ’اگر ہمارے پاس ایسا بم ہوتا، اور ہماری خدا سے دعا ہے کہ ہماری پاس جلد ہی ایسا بم ہو، تو ہم اسرائیل کے تل ابیب، ایلات اور دوسرے شہروں پر حملہ کرنے میں بالکل نہ ہچکتے۔‘ پیغام میں کہا گیا ہے کہ اردنی انٹیلی جنس نے دو بار جھوٹ بولا ہے تا کہ اپنے یہودی اور عیسائی آقاؤں اور سرپرستوں کا تحفظ کر سکیں۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ تا حال ایسا کوئی طریقہ نہیں جس کے ذریعے المنبر ویب سائٹ پر موجود اس ٹیپ کے اصلی ہونے یا نہ ہونے کی تصدیق کی جا سکے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||