’گردن زنی الزرقوی نے ہی کی‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی انٹیلی جینس ایجینسی سی آئی اے کے حکام کا کہنا ہے کہ عراق میں ایک امریکی ٹھیکہ دار کی گردن زنی القاعدہ کے مشتبہ رکن ابو مساب الزرقوی نے ہی کی تھی۔ سی آئی اے نے اس ویڈیو کا تجزیہ کیا ہے جو ملیشیا میں مقیم ایک ویب سائٹ پر نشر کی گئی تھی اور جس میں یہ گردن زنی ہوتے ہوئے دکھائی گئی تھی۔ نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک سی آئی اے کے افسر نے بتایا ہے کہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ اس ویڈیو میں دکھایا جانے والا وہ شخص جس نے چاقو نکالا تھاالزرقوی ہی تھا۔ اس واقعے کی ویڈیو پر پوری دنیا میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے ۔ ویڈیو میں گردن زنی سے پہلے ایک اعلان بھی دکھایا گیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ اردن میں پیدا ہونے والے الزرقوی اس شخص کی گردن زنی کریں گے۔ سی آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ انٹیلی جینس کے لوگوں نے ویڈیو کے تکنیکی تجزیے کے بعد یہ نتیجہ نکالا ہے کہ گردن زنی کرنے والا شخص الزرقوی ہی ہے اس ویڈیو میں موجود آواز بھی اسی کی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||