’عراق: ’شرانگیزی‘ سنگین ہورہی ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی وزیرخارجہ کولن پاول نے کہا ہے کہ امریکہ اور عراقی حکومت عراق میں آئندہ جنوری میں انتخابات کرانے کے حق میں ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ عراق میں ’شرانگیزی‘ کی صورتحال سنگین ہوتی جا رہی ہے۔ کولن پاول نے کہا کہ اس بات کا خطرہ ہے کہ پولنگ اسٹیشنوں پر گولیاں برسائی جائیں گی اور شرپسند لوگوں کو ووٹ ڈالنے سے روکنے کی کوشش کریں گے۔ ایک امریکی ٹیلی ویژن کو دیے جانے والے انٹرویو میں انہوں نے کہا ہے کہ امریکہ ان شرانگیزوں کو شکست دینے کی کوششوں میں اضافہ کرے گا۔ امریکی وزیرِخارجہ کا یہ بیان امریکی وزیرِدفاع ڈونلڈ رمز فیلڈ کے اس بیان کے بالکل برخلاف ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ عراق میں عدم تحفظ کی صورتِ حال کی وجہ سے صرف محدود انتخابات ہی کرائے جا سکتے ہیں۔ بی بی سی کے ایک نامہ نگار کا کہنا ہے کہ امریکی ومیر خارجہ کے اس بیان سے واضح ہے کہ بش انتظامیہ عراق کے امور پر بٹی ہوئی ہے۔ اس سے پہلے عراقی عبوری وزیراعظم ایاد علاوی امریکی کانگریس سے خطاب کرتے ہوئے یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ شر انگیزیوں کو شکست دی جا رہی ہے اور انتخابات منصوبے کے مطابق ہی ہوں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||