عراقی انتخابات پر نیا امریکی تنازعہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی حکومت کے سیاسی ناقدین نے آئندہ جنوری میں عراق میں مکمل انتخابات منعقد کرانے کی یقین دہانی کو مسترد کردیا ہے۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنماؤں نے امریکی نائب وزیر خارجہ رچرڈ آرمیٹیج کے اس بیان کو ’غیرحقیقی امید‘ قرار دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ تمام عراقیوں کو ووٹنگ میں حصہ لینے کا موقع ملے گا۔ آرمیٹیج کا بیان امریکی وزیر دفاع ڈونالڈ رمزفیلڈ کے بیان سے مختلف تھا۔ وزیر دفاع رمزفیلڈ نے جمعرات کو کہا تھا کہ عراق میں تشدد کی وجہ سے انتخابات محدود سطح پر منعقد ہوں گے۔ جبکہ امریکی کانگریس کی ایک کمیٹی کے سامنے اپنے بیان میں نائب وزیر خارجہ آرمیٹیج نے اعتراف کیا کہ عراقی انتخابات میں ’گڑبڑ‘ ہوگی۔ تاہم آرمیٹیج نے اصرار کیا کہ ’ہم الیکشن منعقد کرنے جارہے ہیں، جو آزادانہ اور تمام شہریوں کے لئے کھلے ہوں گے۔‘ ادھر امریکی انتخابات میں صدر جارج بش کے ڈیموکریٹک مخالف جان کیری نے ان پر عراق پر حملہ کرکے دہشت گردی کے خالف جنگ کو نظرانداز کرنے کا الزام لگایا ہے۔ جان کیری نے کہا کہ عراق پر حملہ ’ہمارے سب سے بڑے دشمن القاعدہ کے خلاف جنگ‘ کو نظرانداز کرنے کی ایک مہم تھا۔ جواب میں جارج بش نے جان کیری پر الزام لگایا کہ وہ عراق کے عبوری وزیراعظم ایاد علاوی کے مثبت موقف کو زد پہنچا رہے ہیں۔ جارج بش نے کہا: ’آپ اس ملک کی قیادت کرنے کے اہل نہیں اگر عراق میں آپ کے اتحادی کو لگتا ہے کہ آپ اس کی ساکھ پر سوالات اٹھارہے ہیں۔‘ امریکہ میں دو نومبر کو صدارتی انتخابات منعقد ہوں گے اور جیسے جیسے دن قریب آرہے ہیں جان کیری جنگِ عراق کے حوالے سے جارج بش پر اپنی تنقید میں سختی لارہے ہیں۔ دونوں امیدوار اگلے جمعرات کو روایتی مباحثے میں رو برو ہوں گے جس دوران خارجی امور اور داخلی سکیورٹی پر بحث ہوگی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||