کتنے عراقی مرے؟ کوئی نہیں جانتا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مارچ سن دو ہزار تین میں عراق پر کیے گئے امریکی قبضے کے بعد سے اب تک ایک ہزار سے زائد امریکی ہلاک ہو چکے ہیں۔ جبکہ امریکہ اتحادی ممالک کے درجنوں فوجی بھی عراقی جنگ میں ہلاک ہوئے ہیں۔ اس عرصے کے دوران جاری خونریزی کے سبب ہزاروں عراقی شہری بھی ہلاک ہوئے ہیں البتہ سرکاری سطح پر ان ہلاکتوں کے اعداد و شمار واضح نہیں ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں یہ تنقید کرتی رہی ہیں کہ قابض افواج ہلاک ہونے والوں کا درست ریکارڈ برقرار رکھنے میں ناکام رہی ہیں جس کی وجہ سے یہ تاثر پیدا ہوا ہے کہ عام عراقیوں کی جان کی قیمت فوجیوں کی زندگی سے کم ہے۔ غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جنگ کے بعد ہلاک ہونے والے عام شہریوں کی تعداد کے دس ہزار سے سینتیس ہزار کے درمیان ہے۔ تاہم سرکاری حلقوں میں امریکی جنرل ٹامی فرینکس کے اس جملے کی بازگشت کہ ’ہم لاشین نہیں گنتے‘، اب بھی سنی جاتی ہے۔ امریکہ اور برطانیہ کی حکومتیں یہ کہتی ہیں کہ جنگ زدہ عراق میں پھیلی افراتفری کے باعث درست معلومات کا حصول ناممکن ہو جاتا ہے۔ عراق میں کہ جنگ کے بعد تعمیرِنو کا کام جاری ہے اور ملکی وزراتِ داخلہ و صحت اب عام شہریوں کی ہلاکت کا ریکارڈ جمع کرنے کی کوششوں میں بھی مصروف ہے لیکن وسائل کی سخت کمی کے سبب اس کے پایۂ تکمیل تک پہنچنے کے امکانات بہت کم ہیں۔ عراق میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کا ریکارڈ جمع کرنے والا برطانوی محکمہ ’عراق باڈی کاؤنٹ‘ عملے کی کمی کے باوجود اپنے کام مصروف رہا ہے۔ یہ محکمہ بیس دانشوروں اور امن کارکنوں پر مشتمل ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ عراق پر قبضے کے بعد تیرہ ہزار سے پندرہ ہزار عام عراقی ہلاک ہو چکے ہیں۔ ہلاکتوں کے یہ اعداد و شمار ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں سے جمع کیے گئے ہیں۔
عراق باڈی کاؤنٹ (آئی بی سی) کے معاون بانی پروفیسر جان سلوبودا نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’اس بات پر تقریباً سبھی لوگوں کو اتفاق ہے کہ ہلاکتوں کے اعداد و شمار مکمل نہ ہو پانے کی کافی وجوہات ہیں۔ لیکن جنگ کے باقاعدہ خاتمے کے اعلان کے بعد سے ہم ہلاک ہونے والے شہریوں کی تعداد کے بارے میں خاصے پراعتماد ہیں۔‘ آئی بی سی کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے شہریوں کے اعداد و شمار جمع کرنے کے لیے عراق میں ایک خود مختار کمیشن قائم کرنے کی ضرورت ہے جو یہ بھی جاننے کی کوشش کرے گا کہ یہ لوگ کس طرح ہلاک ہوئے تھے۔ پروفیسر جان سلوبودا نے کہا کہ اگر کوئی ملک اپنے شہریوں کی ہلاکت کی چھان بین نہیں کرتا تو اس کا وقار مجروح ہوئے بغیر کیسے رہ سکتا ہے۔ یوں سوچیئے کہ اگر امریکہ گیارہ ستمبر کو ہونے والی ہلاکتوں کی چھان بین نہ کرے تو اس سے کیا تاثر پیدا ہو گا؟ عراق میں ہونے والی ہلاکتوں کے اعداد و شمار کرنے کے لیے واشنگٹن کا ’بروکنگز انسٹیٹیوٹ‘ بھی کام کر رہا ہے۔ یہ ادارہ عراق میں پُرتشدد واقعات کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کو آئی بی سی کے اعداد و شمار میں جمع کر کے پیش کرتا ہے۔
بروکنگز انسٹیٹیوٹ کا کہنا ہے کہ مئی سن دو ہزار تین سے اگست سن دو ہزار چار کے درمیان دس ہزار سے ستائیس ہزار عراقی شہری جنگی خونریزی اور پُرتشدد واقعات میں ہلاک ہو چکے ہیں۔ اگست سن دو ہزار چار میں ’پیپلز کیفہ‘ نامی ایک عراقی گروپ نے کہا کہ سن دو ہزار تین میں مارچ سے لے کر اکتوبر تک سینتیس ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔ تاہم ان اعداد و شمار کی آزادانہ طور پر چھان بین نہیں ہو سکی ہے۔ امریکی اور برطانوی حکام کا اصرار رہا ہے کہ امریکی فوج نے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ ’درست ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کی تاریخی مہم‘ میں کم سے کم شہریوں کی جانیں ضائع ہوں۔ پینٹاگون نے یہ بھی کہا ہے کہ اس نے ہلاک ہونے والوں کی تعداد نہیں گِنی۔ امریکی وزارت خارجہ نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس نے اس ضمن میں کوئی پالیسی واضع نہیں کی کیونکہ یہ صرف اور صرف وزارت دفاع کے دائرہِ کار میں آتا ہے۔ برطانوی وزارت دفاع کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’یہ بات سب کو سمجھنی چاہیے کہ بڑی جھڑپوں کے دوران ہلاک ہونے والے شہریوں کی تعداد کا صحیح اندازہ لگانے کے لیے کوئی قابلِ اعتماد طریقہ نہیں ہے۔‘
تاہم برطانوی وزیر خارجہ جیک سٹرا نے بی بی سی ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ غیر سرکاری تنظیموں کی جانب سے پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق عراق قبضے کے بعد سے اب تک دس ہزار افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ عجیب بات ہے کہ اتحادی فوجوں نے ہلاک ہونے والوں کا مستقل ریکارڈ نہیں رکھا۔ تاہم برطانیہ کے دفتر خارجہ کا اب یہ کہنا ہے کہ دس ہزار شہریوں کی ہلاکت کی کبھی بھی سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی گئی ہے۔ دفتر خارجہ نے یہ بھی کہا ہے کہ اس ضمن میں حتمی اعداد کے سامنے آنے کے امکانات خاصے کم ہیں۔ ناقدین کا کہا ہے کہ برطانوی اور امریکی افواج کے لیے قطعی ہلاک ہونے والوں کی صحیح تعداد بتانا قطعی دشوار نہیں تھا۔ جبکہ بعض ماہرینِ قانون کے مطابق جنیوا معاہدے کے تحت ہلاک ہونے والے شہریوں کے اعداد و شمار جمع کرنا قابض افواج کی ذمہ داری ہے۔ تاہم بہت سے واقعات میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد سے درکنار یہ جاننا بھی مشکل ہوتا ہے آخر حملے کی وجہ کیا تھی؟ ہیومن رائٹس واچ کے کین روتھ نے بی بی سی نیوز آن لائن کو بتایا کہ ہلاک ہونے والے شہریوں کی تعداد کے بارے میں صرف اندازہ ہی لگایا جا سکتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||