پاول مستعفی، رائس نامزد | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی وزیرِ خارجہ کولن پاول نے استعفیٰ کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اپنے عہدے پر اس وقت تک رہیں گے جب تک اس عہدے کے لیے کسی دوسرے شخص کا انتخاب نہیں کیا جاتا۔ دوسری طرف واشنگٹن میں سینیئر حکام نے کہا ہے کہ صدر بش نے قومی سلامتی کی مشیر کونڈولیزا رائس کو وزیرِ خارجہ کے طور پر نامزد کیا ہے۔ سڑسٹھ سالہ کولن پاول نے استعفیٰ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہمیشہ سے کہتے آئے ہیں کہ وہ اس صرف ایک مدت تک اپنے عہدے پر رہیں گے اور ’یہ وقت ہے کہ نجی زندگی کی طرف واپس جایا جائے‘۔ صدر بش نے کولن پاول کو بطور فوجی اور بطور سفارتکار سراہتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی کمی محسوس کی جائے گی۔ کولن پاول کے بعد تین اور وزراء نے استعفوں کا اعلان کیا۔ اس طرح اب پندرہ رکنی کابینہ میں سے چھ اہم چہرے جا چکے ہیں۔ اپنے استعفیٰ کا اعلان کرتے ہوئے کالن پاول نے کہا کہ ’اپنے ملک کی خدمت کرنا میرے لیے ایک بڑی عزت اور اعزاز کی بات تھی‘۔
’میں صدر بش اور ادارے کے زبردست لوگوں کے ساتھ گزارے ہوئے یہ چار سال ہمیشہ یاد رکھوں گا۔ میرا خیال ہے کہ ہم نے بہت کچھ حاصل کیا ہے‘۔ توانائی کے وزیر سپینسر ابراہم، زراعت کی وزیر این وینیمن اور تعلیم کے وزیر راڈ پیج بھی اپنے استعفوں کا اعلان کر چکے ہیں۔ کولن پاول کے استعفے کی خبر سب سے پہلے امریکی ٹی وی چینلوں نے بے نام امریکی اہلکاروں کے حوالے سے دیتے ہوئے کہا تھا کہ وزیر خارجہ کولن پاول نے کہا ہے کہ وہ مستعفی ہونے کا ارداہ رکھتے ہیں۔ کولن پاول جو ایک سابق فوجی ہیں بش انتظامیہ کے پہلے دور میں مسلسل وزیر خارجہ کی ذمہ داریاں نبھاتے رہے ہیں اور انہیں مقابلتاً معتدل مزاج خیال کیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ وہ عراق پر بھی سب کو ساتھ لے کر چلنے کی پالیسی کے حامی تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||