امریکہ کی ’جنگجو شہزادی‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی اہلکاروں کے مطابق صدر بش نے وزیرِ خارجہ کے عہدے کے لیے کونڈولیزا رائس کو نامزد کیا ہے۔ کونڈولیزا رائس پہلی خاتون ہیں جن کو قومی سلامتی کی مشیر بنایا گیا تھا۔ وہ صدر بش کی خارجہ پالیسی کی ٹیم میں سب سے زیادہ پڑھی لکھی خاتون ہیں۔ وہ صدر بش کے بہت قریب ہیں اور ہر اختتام ہفتہ کو وہ صدر بش اور ان کی اہلیہ لورا بش کے ساتھ کیمپ ڈیوڈ میں ہوتی ہیں۔ ان کی بظاہر سخت طبعیت کی وجہ سے انہیں ’وارئیر پرنسس‘ یا جنگ کی شہزادی کہا جاتا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر رائس صدر بش کی انتظامیہ کی ایک ہر دل عزیز شخصیت بھی ہیں۔ جب صدر بش امریکہ کے صدر بنے تھے تو انہیں خارجہ پالیسی کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔ ڈاکٹر رائس نے اس وقت سے اب تک صدر بش کا بہت ساتھ دیا ہے۔ ڈاکٹر رائس الاباما کے شہر برمنگھم میں 1954 میں پیدا ہوئیں۔ آنکھ کھولتے ہی انہیں جو چیز سب سے زیادہ نظر آئی وہ نسل پرستی تھی۔ ان کے والد ایک پادری اور ایک کالج کے پرنسپل تھے جبکہ ان کی والدہ پیانو بجاتی تھی۔ جب وہ آٹھ سال کی تھیں تو وہ اپنے والد کے گرجا میں کھڑی تھیں کہ ایک زبردست دھماکہ ہوا۔ ایک نسل پرست تنظیم کو کلکس کلین کے اراکین نے گرجا کے قریب ہی ایک بم پھینکا تھا جس کی وجہ سے چار سیاہ فام بچیاں ہلاک ہو گئی تھیں جن میں سے ایک ڈاکٹر رائس کی بچپن کی سہیلی تھی۔
انہوں نے اکثر کہا ہے کہ آگے بڑھنے کے لیے ان کا دوسروں سے دوگنا بہتر ہونا ضروری تھا اور اس کی وجہ سے ہی ان میں اپنے خیالات پر ڈٹے رہنے کا پختہ عزم اور خود داری بڑھی۔ جریدے نیوزویک کو انٹرویو دیتے ہوئے ڈاکٹر رائس نے کہا تھا کہ نسل پرستی کی فضا میں پروان چڑھنے کے باوجود ان سے بہت سی امیدیں وابستہ تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’میرے والدین نے مجھے یقین دلا دیا تھا کہ تم شاید وولورتھس سے لے کر ہیم برگر نہ کھا سکو لیکن تم امریکہ کی صدر ضرور بن سکتی ہو‘۔ ڈاکٹر رائس نے پندرہ سال کی عمر میں یونیورسٹی آف ڈینور میں داخلہ لیا اور انیس سال کی عمر میں پولیٹیکل سائنس میں ڈگری حاصل کی۔ وہ شروع میں کلاسیکل پیانسٹ بننا چاہتی تھیں اور انہوں نے موسیقی پڑھنی بھی شروع کی تھی۔ لیکن بعد میں وہ چیک پناہ گزین جوزف کوربل سے ملیں جو کہ امریکہ کی پہلی خاتون وزیرِ خارجہ میڈلین البرائٹ کے والد تھے۔ ڈاکٹر رائس نے ان کی سرپرستی اور رہنمائی میں تعلقاتِ عامہ اور روس پر مطالعہ شروع کیا۔ انہوں نے بعد میں کئی کورس تبدیل کیے۔ انہوں پہلے ماسٹرز اور اس کے بعد ڈاکٹریٹ کیا اور 26 سال کی عمر میں وہ سٹینفورڈ یونیورسٹی کے ’سینٹر فار انٹرنیشنل سکیورٹی اینڈ آرمز کنٹرول‘ کی فیلو بن گئیں۔ بش سینیئر کی نیشنل سکیورٹی کونسل میں سویٹ افیئرز کی مشیر رہنے کے بعد ڈاکٹر رائس 1991 میں سٹینفورڈ واپس چلی گئیں اور 1993 میں وہ یونیورٹسی کی پہلی خاتون اور غیر سفید فام منتظم بنیں۔
جب صدر بش برسرِ اقتدار آئے تو ڈاکٹر رائس کا خارجہ پالیسی پر بہت زیادہ اثر و رسوخ تھا۔ انہوں نے میزائل ڈیفنس جیسے مشکل مذاکرات روس سے کیے۔ لیکن ان کے اصل جوہر نیویارک اور واشنگٹن پر ہونے والے گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد سامنے آئے۔ وہ گیارہ ستمبر اور پھر افغانستان اور عراق پر حملے جیسے مشکل حالات میں صدر بش کے شانہ بشانہ رہیں اور اپنی قابلیت منوائی۔ ان کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ ہی صدر بش کی ’پری ایمپٹیو ایکشن ڈاکٹرائن‘ یا جن ریاستوں سے امریکہ کو خطرہ ہو سکتا ہے ان پر اپنے تحفظ کے لیے پہلے حملہ کرنے کے فلسفے کی بانی ہیں۔ ڈاکٹر رائس نے عراق پر جنگ کے آغاز سے کچھ پہلے ہی ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ’امریکہ ہمیشہ اپنے پاس یہ حق رکھتا ہے کہ اس پر حملے سے پہلے ہی وہ کسی بھی طرح کے خطرے کو روکنے اور ختم کرنے کی کوشش کرے۔ لیکن ان کے متنازعہ خیالات کے باوجود وائٹ ہاؤس کے اندر اور باہر ان کی مقبولیت میں کوئی کمی نہیں آئی۔ بلکہ کے ان کے فولادی عزم کی وجہ سے کچھ ماہرین نے پہلے ہی کہنا شروع کر دیا تھا کہ ڈاکٹر رائس اگلی وزیرِ خارجہ ہوں گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||