سیلیوٹ کرنے کے مسائل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کولن پاول نہ تو قدامت پسندوں سے بھری بش انتظامیہ میں اپنی جگہ بنا پائے اور نہ ہی ایک فوجی جنرل سے سفارتکار تک کا سفر طے کر سکے۔ ان کی کمزوری یہ تھی کہ وہ اس دنیا کا صحیح ادراک نہ کر سکے جس میں ان کے مخالفین رہتے تھے۔ انہیں بھی امریکہ کی بے پناہ طاقت پر بھروسہ تھا لیکن جہاں باقی لوگ چیزوں کو ایک یقینی شکل میں دیکھتے تھے انہیں وہاں چیزیں پیچیدہ لگتی تھیں۔ اسی چیز نے ان کی رفتار کم کردی تھی لیکن دوسری طرف دیکھا جائے تو یہی وہ چیز تھی جو ان کو دوسروں سے ممتاز کرتی تھی۔ انہیں احکام دینے کی بجائے ان پرعملدرآمد کرنا زیادہ آسان لگتا تھا۔ اور ان سب سے بڑھ کر یہ کہ ان کے پاس ایک سننے والے صدر کی کمی تھی اور یہ سچ ہے کہ کوئی بھی وزیرخارجہ ایسے صدر کے بغیر بے طاقت ہو جاتا ہے۔ ان سب باتوں کا ایک ہی منتقی نتیجہ نکلنا تھا اور وہ یہ کہ کولن پاول لاتعلق ہو جاتے اورایسا ہی ہوا۔ اس بات کا اس سے بڑھ کر کیا ثبوت ہو سکتا ہے کہ وہ پراعتماد شخصیت جس نے 1991 میں عراق کے ساتھ جنگ میں امریکی فوج کی قیادت کی وہ 2003 کی عراق جنگ میں ایک ایسےشخص کے روپ میں سامنے آیا جسے منظرعام سے ہٹا دیاگیا ہو۔ اس بات پر کہ امریکہ عراق کا معاملہ اقوامِ متحدہ میں لے کر جائے گا، انہوں نے جنگ جیت لی تھی لیکن وہ یہ جنگ بھی جلد ہی ہار گئے کیونکہ امریکہ نے اقوامِ متحدہ کی اجازت کے بغیرہی جنگ شروع کردی تھی۔ اس وقت تو انہیں خاصی خفت اٹھانا پڑی جب پتا چلا کہ عراق کے اسلحہ کے پروگرام کے بارے میں جو اعداد وشمار انہوں نے سیکیورٹی کونسل کی تقریر میں پیش کیے تھے وہ سب ناقص رپورٹوں پر مبنی تھے۔ اب یہ بھی سامنے آچکا ہے کہ ان سے پہلے امریکہ میں سعودی سفیر کو صدر بش کے عراق پر حملہ کے فیصلے کے بارے میں بتایا جا چکا تھا۔ لیکن اس سب کے باوجود کولن پاول وفادار رہے۔ صدر بش کو پاول کے فوجی ڈسپلن پر اتنا بھروسہ تھا کہ انہوں نے عراق جنگ سے ذرا دیر پہلے پاول کو کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ وہ فوجی وردی پہن لیں اور پاول نے ایسا ہی کیا۔ شاید ان کی اسی خوبی کو جانتے ہوئے لبرلز کے سیاہ فام کانگریسمین نے ان کے بارے میں کہا ہے ’ کولن پاول ایک فوجی آدمی ہیں، اور انہیں اس سے غرض نہیں کہ وہ کس کے لیے کام کر رہے ہیں۔ وہ بس سیلیوٹ کرنے کے عادی ہیں‘۔ ان کی کمزوریاں اور ناکامیاں اپنی جگہ، کولن پاول کے حصے میں کامیابیاں بھی آئیں۔ وہ ایک الگ فلسطینی ریاست کے حامی تھے اور شاید ان ہی کی وجہ سے جارج بش وہ پہلے امریکی صدر ثابت ہوئے جنہوں نے اس پالیسی کی حمایت کی ہے۔ بش انتظامیہ سے کولن پاول کی دوری کی خبریں عام ہو چکی تھیں۔ ان کے اپنے نائب، رچرڈ آرمیٹیج، نے کہہ دیا تھا کہ اگر بش دوبارہ منتخب ہوتے ہیں تو پاول اور وہ خود اپنے عہدوں سے الگ ہو جائیں گے۔ یہ تو کہا جارہا تھا کہ کولن پاول بش انتظامیہ سےالگ ہوجائیں گے لیکن زیادہ تر مبصرین کا خیال تھا کہ وہ نئے وزیرخارجہ کے عہدہ سنبھالنےتک کام کرتے رہیں گے۔نئے وزیرخارجہ سے آنے سے پہلے ہی استعفٰے بھی کہیں ان کے اثرورسوخ میں کمی کی طرف اشارہ تو نہیں کرتا؟ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||