عراق کے بارے میں پاول کا اعتراف | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی وزیر خارجہ کولن پاول نے اعتراف کیا ہے کہ عراق پر جنگ مسلط کرنے کے بارے میں انہوں نے اقوام متحدہ میں جو شہادتیں پیش کی تھیں وہ غلط بھی ہو سکتی ہیں۔ گزشتہ سال فروری میں انہوں نے اقوام متحدہ کی سالامتی کونسل کو بتایا تھا کہ امریکہ نے مواصلاتی سیارے ان مقامات کی تصاویر حاصل کی ہیں جہاں جراثیمی ہتھیار تیار کیے جاتے ہیں۔ جمعہ کو انہوں نےم اعتراف کیا ہے کہ وہ شہادتیں ٹھوس ثابت نہیں ہوئیں۔ مسٹر پاول نے کہا ہے کہ ما قبلِ جنگ موصول ہونے والی خفیہ اطلاعات کے بارے میں تحقیقات کے لیے مقرر کیا جانے والا کمیشن اس بات کا بھی جائزہ لے گا کہ خفیہ اطلاعات فراہم کرنے والے ادارے کس حد تک ان اطلاعات کی بنیاد پر کیے جانے والے دعوے کرنے میں حق بجانب تھے۔ ان تصاویر میں جو ٹرالر دکھائے گئے تھے ان کے بارے میں خود امریکہ کے سابق چیف معائنہ کار ڈیوڈ کے نے بھی اس شبہہ کا اظہار کیا تھا کہ ان ٹرالر کو مذکورہ ہتھیاروں کی تیاری کے لیے استعمال کیا جاتا ہو گا۔ امریکی چیف معائنہ کار نے اس بارے میں گزشتہ اکتوبر میں غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے استعفیٰ دے دیا تھا اور کہا تھا کہ وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ عراق نے کبھی متحرک گاڑیوں میں کیمیائی ہتھیارسازی کے کسی منصوبے پر عمل کیا تھا یا نہیں۔
عراق پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے قبضے کو ایک سال سے زائد ہو گیا ہے اور اب تک اس بات کی کوئی شہادت نہیں ملی کہ عراق کے پاس وسیع تباہی کے وہ ہتھیار تھے جنہیں عراق پر حملے کا بنیادی سبب قرار دیا گیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||