BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلکس: ہتھیار نہ ملنا حیرت انگیز نہیں
جوہری ہتھیار
برطانوی حکومت

برطانوی حکومت، عراق میں وسیع تباہی کے ہتھیار تلاش کرنے کے ذمہ دار سی آئی اے کے اہلکار ڈیوڈ کے کی اس رپورٹ کے باوجود کہ عراق سے ایسے ہتھیار نہیں ملے ہیں، مسلسل عراق کے خلاف جنگ مسلط کرنے کے امریکی اور برطانوی فیصلے کا دفاع کر رہی ہے۔

حکومت کا اصرار ہے کہ عراق پر مسلط کی جانے والی جنگ بلا جواز نہیں تھی۔

برطانوی وزیرِ خارجہ جیک سٹرا کا کہنا ہے کہ اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ صدام حسین نے اپنا جوہری پروگرام پوشیدہ رکھا ہواتھا۔

جنگ سے قبل عراق میں متعین اقوامِ متحدہ کی اسلحہ کی معائنہ کار ٹیم کے سربراہ ہانس بلکس کا کہنا ہے کہ سی آئی اے کے ڈیوڈ کے کی رپورٹ ان کے لئے حیرت انگیز نہیں ہے۔

امریکہ کی ایک سینیٹ کمیٹی کےنائب صدر اور ڈیموکریٹ رکن جے راک فیلر نے کہا ہے کہ امریکی فوجیوں کی زندگیاں ان خطرات کی بنیاد پر داؤ پر لگائی گئیں جو بظاہر موجود ہی نہیں تھے۔ انہوں نے کہا ’اس طرح سے فیصلے نہیں کئے جاتے جس طرح ہم نے کیا۔ اور اس طرح ملک کے نوجوانوں کی زندگیاں داؤ پر نہیں لگائی جاتیں‘۔

البتہ عبوری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عراق میں ہتھیار اور ان سے متعلق سرگرمیاں سامنے آئی ہیں اور یہ سرگرمیاں اقوامِ متحدہ سے پوشیدہ رکھی گئی تھیں۔

ہانس بلکس نے بی بی سی کو بتایا کہ امریکہ اب تک یہ ثبوت پیش نہیں کرسکا ہے کہ عراق سے دنیا کو اتنا بڑا خطرہ لاحق تھا جس کی بنیاد پر یہ جنگ مسلط کی گئی۔

انہوں نے کہا ’ڈیوڈ کے کی رپورٹ سے ہمیں حیرت نہیں ہوئی۔ اس سے تو صرف اس بات کی تصدیق ہوئی ہے کہ انہیں عراق میں وسیع تباہی کے کوئی ہتھیار نہیں مل سکے‘۔

تاہم امریکہ کی جانب سے اس رپورٹ پر سرکاری ردِ عمل اب تک سامنے نہیں آیا ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد