’عراق: پولینڈ کو گمراہ کیا گیا تھا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پولینڈ کے صدر الگزینڈر کواسنیوسکی نے کہا ہے کہ عراق کے پاس وسیع تباہی کے ہتھیاروں کے معاملے میں ان کے ملک کو گمراہ کیا گیا تھا۔ تاہم انہوں نے عراق فوج بھیجنے کے فیصلے کا دفاع کیا اور کہا کہ وہاں سے پولِش فوج کو واپس بلانے کا ان کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ پولینڈ عراق پر امریکی قبضہ کا زبردست حامی رہا ہے اور اس وقت عراق میں موجود غیرملکی افواج میں اس کے فوجیوں کی تعداد چوتھے نمبر پر ہے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب عراق میں پولینڈ کے کردار کے بارے میں عوامی حمایت میں کمی آ رہی ہے۔ جمعرات کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگرچہ وسیع تباہی کے حامل ہتھیاروں کے معاملے پر انہیں غلط اطلاعات دی گئیں تاہم انہوں نے اس سلسلے میں امریکہ یا برطانیہ پر انگلی نہیں اٹھائی اور کہا کہ اس کے باوجود عراق فوج بھیجنے کا فیصلہ درست تھا کیونکہ بقول ان کے صدام کے بغیر عراق ایک بہتر ملک ہے۔ عراق میں اس وقت ساڑھے نو ہزار پولِش فوجی ہیں۔ ایک اور یورپی ملک سپین میں گزشتہ اتوار کو ہونے والے انتخابات میں جتینے والی جماعت سوشیالسٹ پارٹی نے اعلان کیا ہے کہ وہ عراق سے اپنی افواج واپس بلائے گی۔ ان انتخابات سے دو روز قبل دارالحکومت میڈرڈ میں چار ٹرینوں میں دھماکہ ہوئے تھے جن میں دو سو زیادہ افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوگئے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||