’ہتھیاروں کی تلاش ڈھکوسلا تھی‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کے ہتھیاروں کے معائنہ کاروں کی جماعت کے سابق سربراہ ہانس بلِکس نے کہا ہے کہ عراق میں وسیع تباہی کے ہتھیاروں کی تلاش محض ایک ڈھکوسلا تھی کیونکہ امریکہ اور برطانیہ پہلے ہی حملے کا فیصلہ کر چکے تھے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور برطانیہ نے عراق کے وسیع تباہی کے ہتھیاروں سے متعلق خفیہ اداروں کی اطلاعات کو پرکھے بغیر اس لئے مان لیا تھا کہ وہاں کی حکومتیں پہلے ہی یہ باور کر چکی تھیں کہ صدام حسین کے پاس وسیع تباہی کے ہتھیار موجود ہیں۔ بی بی سی ورلڈ سروس سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان ہتھیاروں کی تلاش کا مقصد بے بنیاد الزامات کے ذریعے ایذارسانی کرنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس پورے عمل میں عراقی منحرفین کے بڑھا چڑھا کر دیئے گئے بیانات اور خفیہ معلومات کی گمراہ کن تشریح پر اکتفا کیا گیا۔ بلِکس نے کہا کہ اگرچہ ان کے خیال میں عراق پر صدر بش اور برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کے حملے کا فیصلہ نیک نیتی پر مبنی تھا تاہم انہوں نے اس کے لئے باقاعدہ راہ ہموار کی۔ ہانس بلِکس نے کہا کہ اس بات کا ثبوت پیش کیا جانا چاہئے کہ صدام حسین وسیع تباہی کے ہتھیاروں بنانے اور انہیں استعمال کرنے کا منصوبہ رکھتے تھے۔ حالیہ دنوں میں بش اور بلیئر یہ کہتے رہے ہیں کہ عراق کے پاس وسیع تباہی کے ہتھیار نہ سہی وہ انہیں بنانے اور استعمال کرنے کا پروگرام بنا چکا تھا۔ اس بات کا امکان ہے کہ اس سلسلے میں امریکہ اور برطانیہ میں ہونے والی تحقیقات میں ہانس بلکس کو پیش ہونے کے لئے بھی کہا جائے۔ یہ الگ الگ تحقیقات ان مطالبوں کے بعد کی جا رہی ہیں جن میں بش اور بلیئر حکومتوں پر الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے اپنے مقاصد کے حصول کے لئے خفیہ اداروں کی معلومات کی من پسند تشریح کی کیونکہ عراق میں وسیع تباہی کے ہتھیاروں کا کوئی ذخیرہ برآمد نہیں ہوا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||