BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 26 March, 2004, 15:36 GMT 20:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صدر بش کا لطیفہ
بش
لطیفے کے دوران ایک سلائڈ میں صدر بش کو اپنے اووّل کے دفتر میں وسیع تباہی کے ہتھیار تلاش کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے
عراق میں وسیع تباہی کے ہتھیار نہ ملنے کے بارے میں صدر بش کے لطیفے نے ایک نیا سیاسی طوفان کھڑا کر دیا ہے۔

صدر بش نے خود اپنے اور اپنی حکومت کے بارے میں یہ لطیفہ صحافیوں کے لیے روایتی عشائیے کے موقعہ پر سنایا۔

اس لطیفے میں انہوں نے ایک سلائڈ شو کا ذکر کیا جس میں دکھایا جاتا ہے کہ صدر بش وائٹ ہاؤس کے اوول دفتر میں کچھ تلاش کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں: ’یہیں کہیں ہونے چاہیں وسیع تر تباہی کے وہ ہتھیار۔‘

اس کے بعد کی سلائڈ میں دکھایا گیا ہے کہ صدر بش دفتر کے ایک کونے میں کھڑے ہیں اور کہہ رہے ہیں’نہیں، یہاں بھی نہیں ہیں وہ ہتھیار۔‘

اس کے بعد کی تیسری سلائڈ میں دکھایا گیا کہ صدر جھکے ہوئے کچھ تلاش کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں ’ممکن ہے یہاں، اس کے نیچے ہوں۔‘

ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے نامہ نگاروں کی ایسوسی ایشن کے ساٹھویں عشائیے میں جب صدر نے اپنا لطیفہ مکمل کیا تو پوری محفل تا دیر قہقہوں سے گونجتی رہی لیکن دوسری صبح یہ لطیفہ ایک اور ہی رنگ اختیار کر چکا تھا۔

وسیع تباہی کے یہ ہتھیار جو عراق پر حملے کا بنیادی سبب بتائے گئے تھے اور اب کہا جا رہا ہے کہ انہیں عراق پر حملے کا جواز قرار دینا غلط فیصلہ کا نتیجہ تھا کیونکہ ان کی تلاش اب تک کسی بھی طرح نتیجہ خیز نہیں ہو سکی۔

حقیقت سے کٹا ہوا صدر
 ’اگر صدر بش یہ سمجھتے ہیں کہ قوم کو جنگ سے دوچار کرنے کے لیے ان کا پُر فریب جواز محض ہنسی میں اڑایا جانے والا معاملہ ہے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ وہ حقیقت سے انتہائی کٹے ہوئے ہیں
جان کیری

آئندہ انتخابات میں صدر بش کے حریف سینیٹر جان کیری نے اس لطیفے کے بعد صدر بش کے روّیے کو ’شہرت طلب جنگجو‘ کا روّیہ قرار دیا ہے۔

جان کیری کا کہنا ہے کہ ’اگر صدر بش یہ سمجھتے ہیں کہ قوم کو جنگ سے دوچار کرنے کے لیے ان کا پُر فریب جواز محض ہنسی میں اڑایا جانے والا معاملہ ہے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ وہ حقیقت سے انتہائی کٹے ہوئے ہیں۔‘

اپنے تحریری بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ ’ایسے معاملے کو صدر کا لطیفے کے طور پر سنانا ایک بد قسمتی ہے۔‘

جان کیری کے اس بیان میں عراق کی جنگ میں حصہ لینے والے ایک سابق سینئر اہلکار بریڈ اونیس کا بیان بھی شامل ہے جس میں کہا گیا ہے ’جنگ وہ واحد سنجیدہ معاملہ ہے جس میں صدر اور اس کی حکومت اپنے عوام کو ملوث کر دیتے ہیں اور اس لطیفے سے ان قربانیوں کی تحقیر ہوتی ہے جو امریکی فوجی اور ان کے خاندان کے لوگ ہر روز دے رہے ہیں۔‘

اعداد و شمار کے مطابق اب تک عراق کی جنگ میں پانچ سو سے زائد امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ زخمی ہونے والوں کی تعداد ہزاروں میں ہے۔

اس لطیفے کے بارے میں امریکی وزیر دفاع ڈونلڈ رمزفیلڈ سے جب ان کی پریس کانفرنس کے دوران سوال کیا گیا تو ان کا جواب تھا کہ وہ اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے کیونکہ وہ مذکورہ عشائیے میں موجود نہیں تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد