عدم ثبوت ہی ثبوت تھا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوامِ متحدہ کے ہتھیاروں کی معائنہ ٹیم کے سابق سربراہ ہانس بلکس نے پھر کہا ہے کہ عراق کے خلاف جنگ امریکہ اور برطانیہ کی بلا جواز مسلح کارروائی تھی۔ عراق پر یلغار کا پہلا سال مکمل ہونے سے کچھ قبل شائع ہونے والی اپنی کتاب میں ہانس بلکس لکھتے ہیں کہ عراق کے خلاف کارروائی سے نہ صرف دو حکومتوں کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے بلکہ اس سے اقوامِ متحدہ کے اختیار پر بھی ضرب لگی ہے۔ عالمی امور کے لئے بی بی سی کے نامہ نگار پال رینلڈز لکھتے ہیں کہ ہانس بلکس کو جو مشن سونپا گیا تھا وہ تقریباً ناممکن تھا۔۔۔یعنی وسیع تباہی کے ہتھیاروں کی تلاش۔ ہمارے نامہ نگارکا کہنا ہے کہ ہانس بلکس کے لئے جنگ روکنا کسی بھی طرح ممکن نہیں رہا تھا۔ جب ہانس بلکس کو عراق میں کچھ نہ ملا تو امریکہ اور برطانیہ یہ بات تسلیم کرنے کو تیار نہیں تھے کہ ثبوت کا نہ ملنا خود ثبوت ہے کہ عراق میں کچھ نہیں ملے گا۔ اپنی کتاب میں ہانس بلکس لکھتے ہیں کہ اکتوبر دو ہزار دو میں جوہری توانائی کے عالمی ادارے کے سربراہ البرادعی اور خود انہیں امریکی نائب صدر ڈک چینی کے ساتھ ایک ملاقات کا اتفاق ہوا۔ اس میٹنگ میں ڈک چینی نے کہا ’اگر معائنہ کاروں کے کام کا کوئی فوری نتیجہ نہیں نکلتا تویہ نہیں ہو سکتا کہ ہتھیاروں کی تلاش کا سلسلہ چلتا رہے۔‘ امریکی نائب صدر نے یہ بھی کہا: ’امریکہ عراق کو غیر مسلح کرنے پر تیار ہے خواہ اس کے لئے معائنہ کاروں کی عزت کم ہو جائے۔‘ ہانس بلکس کہتے ہیں کہ ڈک چینی کی اس بات سے وہ یہ سمجھ گئے کہ اگر ’ہمیں جلد ہتھیار نہ ملے تو امریکہ یہ اعلان کردے گا کہ معائنہ کاروں کی کوشش فضول ہے اور دیگر ذرائع استعمال کرکے عراق کو غیر مسلح کرنے کی کوشش کی جائے گی۔‘ بلکس کا کہنا ہے برطانوی وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر کو بھی یہ یقین تھا کہ صدام حسین ہتھیاروں کو چھپا رہے ہیں۔ انہوں نے ہانس بلکس سے یہ بھی کہا کہ برطانیہ اور امریکہ کے علاوہ فرانس اور جرمنی کی خفیہ اطلاعات بھی یہی تھیں کہ عراق کے پاس وسیع تباہی کے ہتھیار ہیں۔ ’مگر میرا جواب تھا کہ خفیہ اطلاعات زیادہ مؤقر نہیں ہیں۔‘ ہانس بلکس کہتے ہیں کہ عراق کے خلاف جنگ بلا جواز تھی لیکن پھر بھی وہ اپنے فیصلے میں ان کے لئے نرم گوشہ رکھتے ہیں جنہوں نے یہ جنگ شروع کی اور جواز یہ دیتے ہیں کہ جنہوں نے صورتِ حال کا تنقیدی جائزہ لیا ان سے کوتاہی ہوگئی۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||