BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 02 February, 2004, 08:20 GMT 13:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جھوٹ ہی سچ ہے

بی بی سی اردو ڈاٹ کام
امریکی سی آئی اے کے سربراہ جارج ٹینیٹ

سراغرسانی کے ذرائع اور اپنے ہی اداروں کی معلومات پر اند ھے اعتماد کی بنیاد پر دوسرے ممالک اور تہذیبوں کا قتل کوئی نئی بات نہیں۔ صرف امریکہ ہی گزشتہ پچپن برس میں ایسی ہی غلط معلومات کی بنیاد پر یہ کام کم ازکم تین مرتبہ کر چکا ہے۔

پہلی مثال اگست انیس سو پینتالیس میں جاپان پر دو ایٹم بم گرائے جانے کا سانحہ ہے۔ اس سانحے سے کوئی ایک ماہ قبل جاپان کی امپیرئیل حکومت نے امریکہ کے فوجی اتحادی سوویت یونین کی اسٹالن حکومت کو پیش کش کی کہ وہ یک طرفہ جنگ بندی پر آمادہ ہے۔سوویت حکومت نے امریکہ کی ٹرومین انتظامیہ کو اس پیش کش سے آگاہ کیا لیکن امریکہ نے اس پر کسی ردِ عمل کا اظہار نہیں کیا۔ کیونکہ جاپان کو مکمل طور پر گھٹنے ٹکوا کر امریکہ کو واحد ایٹمی سپر پاور کے طور پر متعارف کرائے جانے کا سیاسی فیصلہ ہو چکا تھا۔مغربی مورخین آج تک دوسری عالمگیر جنگ کے اختتامی دنوں کے ان واقعات پر بوجوہ تفصیلی تبصرہ آرائی سے گریزاں ہیں۔

دوسری مثال ویتنام میں فوجی مداخلت ہے۔انیس سو پینسٹھ تک جنوبی ویتنام کو شمالی ویتنام کے مبینہ کیمونسٹ خطرے سے بچانے کے لئے امریکی امداد مشیروں اور ہتھیاروں کی فراہمی تک محدود تھی۔ لیکن جانسن انتظامیہ فوجی کارروائی کا دائرہ وسیع کرنے کے لئے کسی مناسب جواز کی تاک میں بھی تھی۔اچانک یہ خبر سامنے آئی کہ شمالی ویتنام نے خلیجِ ٹونکن میں بین الااقوامی سمندری حدود میں موجود ایک امریکی جنگی جہاز پر بمباری کر دی ہے۔اس واقعہ کو جواز بنا کر شمالی ویتنام کے خلاف ایک وسیع اور مربوط فضائی اور زمینی کارروائی کا وہ سلسلہ شروع ہوا جو انیس سو پچھتر میں ویتنام سے امریکہ کی مکمل پسپائی تک جاری رہا۔بعد میں پتہ یہ چلا کہ خلیجِ ٹونکن میں امریکی جنگی جہاز پر شمالی ویتنام کے حملہ کی خبر میں کوئی حقیقت نہیں تھی اور اس کی تصدیق خود متعلقہ بحری جہاز کے عملے نے کی۔ یہ کہانی سی آئی اے نے گھڑی تھی۔لیکن یہ جھوٹ سامنے آتے آتے لاکھوں لوگ مر گئے۔

تیسری مثال عراق میں وسیع تر تباہی کے ہتھیاروں سے متعلق امریکہ اور برطانیہ کے سراغرساں اداروں کی معلومات ہیں جن کی بنیاد پر عراق پر فوج کشی کی گئی۔جاپان پر ایٹم بم گرنے سے لے کر خلیج ٹونکن کے افسانے تک زرائع ابلاغ کی معلومات تک اتنی تیزرفتار رسائی نہیں تھی جتنی کہ آج ہے۔اس کے نتیجے میں وائٹ ہاؤس اور وائٹ ہال کے لئے یہ بات مسلسل دوبھر ہے کہ وہ وسیع تر تباہی کے ہتھیاروں کے افسانے کی پھولی ہوئی لاش اپنی مرضی سے ٹھکانے لگا سکیں۔

تاریخ کی سفاکی کا تازہ ترین ثبوت یہ ہے کہ اقوامِ متحدہ کے سابق چیف معائنہ کار ڈاکٹر ہانز بلکس ، امریکہ کے ہتھیار جو کمیشن کے سبکدوش سربراہ ڈیوڈ کے اور عراق کے معزول حکمراں صدام حسین ایک ساتھ کھڑے ہیں۔

تینوں کا موقف ہے کہ عراق کے پاس جنگ سے پہلے وسیع تر تباہی کے ہتھیار موجود نہیں تھے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد